یمنی فوج کا سعودی فوجی اڈوں پر جوابی میزائلی حملہ
یمن کی فوج اور عوامی رضاکارفورس کے میزائل یونٹ نے جنوبی سعودی عرب کے نجران میں سعودی فوج کے اڈے پر بیلیسٹک میزائل سے حملہ کیا ہے
یمن کی فوج اور عوامی رضاکارفورس نے اعلان کیا ہے کہ ان کے میزائل یونٹ نے سعودی عرب کے علاقے نجران میں المستحدث فوجی اڈے پر بدر ایک میزائل سے حملہ کیا ہے - اس حملے میں سعودی فوج کو ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کی تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں - سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے یمن کا محاصرہ جاری رہنے کے باوجود یمن کی فوجی اور دفاعی توانائیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے - یمنی فوج تقریبا آئے دن سعودی عرب کے اندر سعودی فوج کے ٹھکانوں پر میزائلوں سے حملہ کرتی ہے ۔یمنی فوج کے یہ حملے یمن کے رہائشی علاقوں پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے وحشیانہ حملوں کے جواب میں انجام پارہے ہیں - سعودی عرب نے امریکا، متحدہ عرب امارات اور چند دیگر ملکوں کی حمایت سے مارچ دوہزار پندرہ سے یمن کو اپنی وحشیانہ جارحیتوں کا نشانہ بنارکھا ہے- سعودی عرب نے یمن کا زمینی، فضائی اور سمندری محاصرہ بھی کررکھاہے - دوسری جانب یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی کمشنر نے یمن کی جنگ کے اصلی عناصر کے ناموں کی فہرست جاری کی ہے جن میں سعودی ولیعہد بن سلمان ، سعودی فوج کے سربراہ فیاض الرویلی اور سعودی عرب کی جوائنٹ فوج کے کمانڈر فہد بن ترکی بن عبدالعزیز کے نام سب سے اوپر ہیں - الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی اس فہرست میں متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے سربراہ خلیفہ بن زاید ال نہیان اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر محمد بن زاید آل نہیان اور وزیردفاع محمد بن راشد کانام بھی شامل ہے جنھیں یمن کی جنگ کا اصل ذمہ دار قراردیا گیا ہے - اس درمیان یمن میں امریکی سفارت خانے میں ڈپٹی چیف مشن انا اسکروگیما نے جنھیں سعودی عرب اور متحدہ عرب کو یمن کے خلاف ہتھیاروں سے لیس کرنے والی سب سے بڑی حمایتی سمجھا جاتا ہے اپنے ایک مضحکہ خیز دعوے میں مطالبہ کیا ہے کہ یمن پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حملوں کے بارے میں فوری اور شفاف تحقیقات کی جائے - یمن میں امریکا کی ڈپٹی چیف آف مشن نے یہ مضحکہ خیز دعوی ایک ایسے وقت کیا ہے جب اب تک بے شمار ایسی ررپورٹیں سامنے آچکی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج نے یمن پر حملے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا کھل کر ساتھ دیا ہے چنانچہ امریکا کے بھی بعض ذرائع ابلاغ نے یمن کے خلاف جارح سعودی اتحاد کے وحشیانہ جرائم میں امریکا کے کردار کا اعتراف کیا ہے اور امریکا کو ہی یمن کے بے گناہ شہریوں کے خون بہنے کا ذمہ دار بتایا ہے