عسیر میں سعودی فوجی ٹھکانوں پر یمن کے میزائل حملے
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے جمعرات کو جنوبی سعودی عرب میں واقع عسیر میں سعودی فوجی ٹھکانوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی سعودی عرب میں واقع عسیر میں سعودی فوجی ٹھکانوں کو زلزال ایک قسم کے تین بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ابھی ممکنہ نقصانات کے بارے میں تفصیلی رپورٹ نہیں ملی ہے۔
اس سے قبل یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے بدھ کی رات بھی جنوبی سعودی عرب کے علاقے نجران میں سعودی فوجی ٹھکانوں کو بدر ایک قسم کے میزائل حملے کا نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں تیئیس سعودی فوجی زخمی ہو گئے تھے۔منگل کی رات بھی یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے سعودی عرب کے جنوبی صوبے جیزان میں سعودی نیشنل آئل کمپنی آرامکو کی آئل ریفائنری اور پیٹروکیمیکل کارخانے کو نشانہ بنایا۔
یمنی فوج کے اینٹی ایرکرافٹ یونٹ نے بھی مغربی یمن میں الحدیدہ کے علاقے میں جارح سعودی اتحاد کا ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ یمنی فوج نے جنوبی سعودی عرب میں عسیر کے علاقے میں سعودی فوج کے ٹھکانے کو بدر ایک قسم کے تین بیلسٹک میزائل کا نشانہ بنایا۔
سعودی اتحاد کی جانب سے یمن کے تمام تر محاصرے کے باوجود یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی دفاعی توانائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی جانب سے سعودی اتحاد کی جارحیت کے جواب میں منھ توڑ جواب دیا جا رہا ہے اور سعودی عرب پر مسلسل میزائل حملے ہو رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب نے امریکہ کی حمایت سے ایک فوجی اتحاد قائم کر کے مارچ دو ہزار پندرہ سے ایک غریب اسلامی عرب ملک، یمن کو وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے جس میں اب تک ہزاروں بے گناہ عام شہری شہید و زخمی اور لاکھوں دیگر بے گھر ہو چکے ہیں جب کہ اس ملک کی اقتصادی و بنیادی تنصیبات کو بھی تباہ کر دیا گیا اور نتیجے میں اس ملک کو غذائی اشیا اور دواؤں کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی عرب، یمن کو جارحیت کا نشانہ بنا کر اب تک اپنا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کر سکا ہے۔