ایران اور سعودی عرب کے درمیان تنازع کی وجہ کیا ہے؟
دنیائے اسلام میں ایران اور سعودی عرب کو دو بڑی طاقتوں کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے جن کا دوسرے مملکوں پر کافی اثر ہے۔
کیا یہ اثرات فرقے کی بنیادوں پر ہیں یا اس اس کی بنیادیں کچھ اور ہیں؟ اس سوال کا جواب اس لئے اہم ہے کہ دنیائے اسلام کے مستقبل کی تصویر کی جھلک اس سے دیکھی جا سکتی ہے۔
قطر کی وزارت خارجہ کی ترجمان لؤلؤ الخاطر نے ایک بیان دیا جس میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات کی وجہ فرقہ وارانہ مسائل ہرگز نہیں ہیں۔ یہ علاقے میں دو مضبوط رجحانوں کے اثر و رسوخ کا معاملہ ہے۔ اگر دونوں کے درمیان سفارتی چینل قائم کر دیا جائے تو اختلافات کو حل کیا جا سکتا ہے۔
الخاطر کی یہ بات اس لئے صحیح ہے کہ عالم اسلام پر یا دنیائے عرب پر ایک نظر ڈال کر ہم اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ وہی ملک جو ایران کو ایک شیعہ ملک کہہ کر اس کے ساتھ اپنے اختلافات کی وجہ پیش کر دیا کرتے تھے، آج خود ان کے سنی ممالک سے شدید گہرے اختلافات ہیں۔ ترکی شیعہ ملک نہيں ہے لیکن اس کے ساتھ سعودی عرب کے اختلافات اپنے عروج پر پہنچے ہوئے ہیں۔
یمن شیعہ ملک نہیں ہے لیکن سعودی عرب نے اس پر جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ گزشتہ پانچ سال سے ریاض حکومت نے یمن پر وسیع حملے جاری رکھے ہیں۔ واضح رہے کہ یمن پر حملے کرنے والے اتحاد میں شامل سعودی عرب اور امارات کے درمیان باہمی جنگ کا آغاز ہو گیا ہے جسے کسی طرح سے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ایران کو اگر دیکھا جائے تو جہاں سعودی عرب کے ساتھ اس کے اختلافات ہیں وہیں ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
فلسطینی تنظیموں کے ساتھ ایران کے تعلقات کا معاملہ تو اس سطح پر پہنچ گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ میں فلسطینی تنظیموں نے ایران کی مدد سے طاقت کے توازن میں تبدیلی شروع کر دی ہے۔
آج فلسطینی تنظیم اسرائیل پر وہ حملے کر رہے ہیں جن سے نتن یاہو جیسے انتہا پسند لوگ، کوئی بھی جھڑپ شروع ہوتے ہی سب سے پہلے جنگ بندی کی کوشش میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب فرقہ واریت اس تنازع کی وجہ نہیں تو اصلی وجہ کیا ہے؟
اصلی وجہ استعماری طاقتوں کے بارے میں نظریہ۔ اسلامی جمہوریہ ایران وہ ملک ہے جو استعماری طاقتوں کی پالیسیوں اور منصوبوں کے خلاف برسر پیکار ہے۔ یہ جنگ اب اتنی آگے بڑھ گئی ہے کہ استعماری طاقتوں کے لئے مغربی ایشیا کے علاقے میں باقی رہنا سخت ہو رہا ہے اور علاقہ چھوڑ کر جانے کی تیاری میں ہیں کیونکہ ایران اس جنگ میں اکیلا نہیں ہے بلکہ اسی طرح کا نظریہ رکھنے والی مزید طاقتیں ابھر کر سامنے آئی ہيں۔ ان میں عراق کا نام بھی لیا جا سکتا ہے، شام کا نام بھی لیا جا سکتا ہے، یمن کی تحریک انصار اللہ کا نام لیا جا سکتا ہے، فلسطینی تنظیموں کا نام لیا جا سکتا ہے۔
ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے ہمیشہ دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں صرف حکومتوں کو الگ الگ حربوں سے اپنے ساتھ لانے کی کوشش کی اور عوام کو نظر انداز کیا جبکہ ایران نے ہمیشہ عوامی سطح کے تعلقات کو اہمیت دی۔
ان دو رجحانوں اور نظریات کا مستقبل کیا ہوگا، موجودہ حالات کا جائزہ لے کر اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
* مقالہ نگار کے موقف کا سحر عالمی نیٹ ورک سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ *