Feb ۰۶, ۲۰۲۶ ۱۷:۲۳ Asia/Tehran
  • چین اور روس نے ایک بار پھر ایران کے ایٹمی مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مسقط میں ایران اور امریکہ کے درمیان اجلاس کے وقت ایک بار پھر تہران کے ایٹمی مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر تاکید کی ہے ادھر روس نے بھی ایران کے جوہری مسئلے کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے

سحرنیوز/دنیا:    چین کے سرکاری ٹیلیویزن چینل کی رپورٹ کے مطابق لین جیان نے آج جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بیجنگ ہمیشہ اس مسئلے میں تمام فریقوں کے ساتھ رابطے میں رہا ہے اور امید ہے کہ تمام فریق مذاکرات کے ذریعے اختلافات کو حل کرنے کے ذریعے مشترکہ طور پر علاقائی امن و استحکام کا تحفظ کریں گے-

 

اسی سلسلے میں چین کے نائب وزیر خارجہ لیو بین نے گزشتہ روز، اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی اور بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی سے ملاقات میں کہا کہ چین نے ہمیشہ سیاسی اور سفارتی ذرائع سے ایران کے جوہری مسئلے کے پرامن حل کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ بیجنگ طاقت کے استعمال اور پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی کا مخالف ہے، مزید کہا کہ چین جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے ایران کے جائز اور قانونی حق کی حمایت کرتا ہے۔

لیو بن نے کہا کہ ایران نے بارہا جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر اپنی مخالفت کا اظہار کیا ہے اور چین بھی ایران کے جوہری مسئلے کے مناسب اور پائیدار حل کو آگے بڑھانے کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

 

 

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی آر ٹی ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران میں ہونے والی پیشرفت کا ذکر کرتےہوئے کہا کہ ایران روس کا قریبی ساتھی ہے اور ماسکو خطے کی موجودہ پیچیدہ صورتحال سے لاتعلق نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کی پیچیدگی نہ صرف تہران بلکہ پورے مشرق وسطی کے لیے ممکنہ طور پر دھماکہ خیز ہے۔

روس نے ہمیشہ ایران کے جوہری مسئلے کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان جوہری مسائل پر مذاکرات کے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ماسکو ان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے تاہم اس حوالے سے فیصلہ فریقین پر منحصر ہے۔ انہوں نے مذاکرات کے پہلے دور کے لیے عمان کا انتخاب کیا اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

 

روس برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر پرامن اور غیر متنازع ماحول میں مذاکرات انجام پانے کے ایران کے موقف کی حمایت کرتا ہے۔ ماسکو " طاقت کے ذریعے امن " کی امریکی اسٹریٹیجی، دھمکی کی پالیسی اور الٹی میٹم کے ساتھ مطالبات کی پالیسی کو ناقابل قبول اور بے نتیجہ سمجھتا ہے۔ روس جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے رکن کی حیثیت سے پرامن جوہری پروگرام میں توسیع کے ایران کے حق کو جائز اور قانونی سمجھتا ہے کہ جسے سلب نہیں کیا جا سکتا-

روس کو امید ہے کہ واشنگٹن اور تہران نیک نیتی اور سمجھداری کا مظاہرہ کریں گے اور ایسے معاہدے کریں گے جو ایران کے جوہری مسئلے کے حتمی اور پرامن حل کی بنیاد رکھیں گے۔

 

ٹیگس