سعودی اتحاد نے الحدیدہ میں 67 بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی
یمنی فوج کے ایک اعلی افسر کا کہنا ہے کہ سعودی اتحاد کے آلہ کاروں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران الحدیدہ میں 67 بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق یمنی فوج کے اس اعلی افسر نے المسیرہ ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی اتحاد نے جنگ بندی کے دعووں کے بر خلاف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے صوبے الحدیدہ پر متعدد بار راکٹ حملے کئے۔
المسیرہ ٹیلی ویژن چینل کی رپورٹ کے مطابق سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے اسی طرح مارب صوبے کے مجزر علاقے پر 5 مرتبہ بمباری کی۔ ہونے والے حملوں سے جانی اور مالی نقصان کی رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آئی۔
یمن کے خلاف جنگ اور جارحیت کا سلسلہ ایسے وقت میں جاری ہے جب سویڈن میں صنعاء اور ریاض کے وفد کے مابین 18 دسمبر 2018 کو الحدیدہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تاہم سعودی جنگی اتحاد نے اپنی ہی اعلان کردہ جنگ بندی کی ایک دن بھی پابندی نہیں کی اور اس اعلان کے محض چند گھنٹے بعد ہی یمن کے رہائشی علاقوں اور شہری اہداف کو زمینی اور فضائی حملوں کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب اور اس کے بعض اتحادی ممالک، امریکا اور دیگر ملکوں کی حمایت کے زیر سایہ مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ حملے کر رہے ہیں اس عرصے میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید و زخمی جبکہ دسیوں لاکھ یمنی بے سر و سامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
سعودی عرب اپنے تمام تر وحشیانہ حملوں کے باوجود اپنا ایک بھی مقصد اب تک حاصل نہیں کر سکا ہے -
پچھلے چند برسوں کے دوران مکمل زمینی، سمندری اور فضائی محاصرے کے باوجود یمنی فورسز کی دفاعی طاقت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔