Jun ۰۷, ۲۰۲۰ ۲۱:۳۶ Asia/Tehran
  • رسوائي کی حد پار کرتے ہوئے سعودی عرب نے پھر قطر کے سامنے ہاتھ پھیلا دیا

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل نمائندے نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ان کا ملک قطر سے تعلقات بحال کرنے کے لیے تیار ہے۔

یہ دوسری بار ہے جب سعودی عرب اور اس کی جی حضوری کرنے والے بعض علاقائي ممالک قطر سے تعلقات استوار کرنے اور تعاون بحال کرنے کی ملتمسانہ گزارش کر رہے ہیں، البتہ اس بار فرق یہ ہے کہ نہ تو تعلقات کی بحالی کے لیے تیرہ شرطوں کی بات کی جا رہی ہے اور نہ ہی ان شرطوں کو متوازن بنانے کی کوشش کی گئي بلکہ اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے نمائندے نے کہا ہے کہ قطر میں ترکی کی موجودگي ختم ہو اور قطر، ایران سے اپنے تعلقات ختم کرے۔

 

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین نے جون سن دو ہزار سترہ میں یکطرفہ طور پر قطر سے تعلقات منقطع کر لیے تھے اور اس کا زمینی، فضائي اور بحری محاصرہ کر کے اس سے کہا تھا کہ اگر وہ تیرہ شرطیں مان لے تو اس کا محاصرہ ختم کر دیا جائے گا۔ یہ شرطیں، ہر شعبے میں قطر کی پالیسیوں کو تبدیل کرانے کے مساوی تھیں، اسی لیے قطر نے انھیں تسلیم نہیں کیا اور اپنی سیاسی خودمختاری کی حفاظت پر تاکید کی۔ یہ چیز ان چار ملکوں خاص طور پر سعودی عرب کو اتنی گراں گزری کہ اس نے قطر کے موجودہ امیر کے سلطنتی حریفوں کی حمایت کرنا شروع کر دیا لیکن چار سال گزرنے کے بعد بھی قطر کے محاصرے کا نہ صرف یہ کہ کوئي خاص نتیجہ نہیں نکلا ہے بلکہ سعودی عرب کی قیادت پر بھی سنجیدگي سے سوال اٹھنے لگے ہیں۔

 

قطر سے تعلقات کی بحالی کے لیے سعودی عرب کی جانب سے التماس ایسے عالم میں ہے کہ جب ان دنوں یمن اور لیبیا کے حالات نے سعودی عرب اور اس کے حلیفوں کی پوزیشن بری طرح سے خراب کر رکھی ہے اور ان حالات میں قطر کے لیے پیشگي شرط معین کرنا، ایک سیاسی مذاق ہی نظر آتا ہے۔ قطر کی حکومت اور قوم، سعودی عرب اور اس کے حلیفوں کی جانب سے مسلط کیے گئے چار سالہ محاصرے کے دوران استقامت کا مظاہرہ کر کے در حقیقت خطے میں "سعودی عرب کے بغیر زندگي" کے ایک نئے ماڈل میں تبدیل ہو گئی ہے اور بہت بعید ہے کہ جب تک اسے کچھ ٹھوس پوائنٹس حاصل نہ ہوں، وہ اپنی اس شبیہ کو بدلنے پر تیار ہوگي۔

ٹیگس

کمنٹس