Mar ۲۸, ۲۰۲۱ ۲۲:۱۲ Asia/Tehran
  • مذاکرات سے قبل یمن کے خلاف جنگ و جارحیت بند کرنا ہو گی، انصاراللہ

یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن نے تاکید کی ہے کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات سے قبل یمن کے خلاف سعودی اتحاد کو جنگ و جارحیت بند کرنا ہو گی اور اس ملک کا ظالمانہ محاصرہ ختم کرنا ہو گا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی نے کہا ہے کہ یمن کے عوام کے خلاف جارحیت بند اور یمن کا غیر قانونی و ظالمانہ محاصرہ ختم کئے جانے کی صورت میں یمن کی عوامی تحریک بھی سعودی عرب کے خلاف اپنے جوابی حملے بند کر دے گی۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں جنگ کا بند کیا جانا علاقے کے تمام ملکوں کے مفاد میں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت طاقت کا توازن جارح ملکوں کے مقابلے میں یمنی عوام کے حق میں تبدیل ہو چکا ہے۔

محمد البخیتی نے کہا کہ امریکہ، پوری دنیا کے مسلمانوں اور سبھی عرب اقوام کا دشمن ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس سے قبل کے مذاکرات اور جنگ بندی کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے یمن، اس سلسلے میں عملی اقدامات کا خواہاں ہے۔

دریں اثنا یمنی فوج اورعوامی رضاکار فورس نے سعودی اتحاد کی وحشیانہ جارحیت کے جواب میں جنوبی سعودی عرب میں شدید ڈرون حملہ کیا ہے۔سعودی اتحاد نے بھی دعوی کیا ہے کہ جنوبی سعودی عرب میں یمن کی عوامی رضاکار فورس کے دو ڈرون طیارے دیکھے گئے جن کا تعاقب کیا گیا۔

جارح سعودی عرب نے امریکہ ، متحدہ عرب امارات اور چند دیگر ممالک کی مدد سے مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن کو فوجی جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے اور ساتھ ہی اس ملک کا بری بحری اور فضائی محاصرہ بھی جاری رکھا ہے-

یمن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی یلغار اور جارحیت کے نتیجے میں اب تک سترہ ہزار سے زیادہ یمنی شہری شہید دسیوں ہزار زخمی اور دسیوں لاکھ بےگھر و دربدر ہوچکے ہیں۔

یمن پر سعودی عرب کی جارحیت اور محاصرے کے باعث اس غریب عرب ملک کو غذائی اشیا اور دواؤں کی شدید قلت کا سامنا ہے ۔

اقوام متحدہ سے وابسہ مختلف عالمی اداروں منجملہ عالمی ادارہ صحت اور یونیسف نے بارہا خبردار کیا ہے کہ یمنی عوام پر جارحیت کے نتیجے میں اس ملک کو ایسے انسانی المیے کا سامنا ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔دوسری جانب ڈاکٹروں کی ایک عالمی تنظیم نے یمن میں کورونا وائرس کے شدید پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ڈاکٹرس ود آؤٹ بارڈ نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ یمن میں بیشتر مریضوں کی حالت ابتر ہو چکی ہے جنھیں آکسیجن اور مختلف طبی وسائل کی فوری ضرورت ہے تاہم اس ملک کے سخت ترین محاصرے کی بنا پر ان طبی وسائل کی فراہمی میں ممکن نہیں ہے ۔

واضح رہے کہ تین کروڑ کی آبادی کے غریب عرب اسلامی ملک یمن میں تقریبا چار ہزار کے قریب لوگ کورونا میں مبتلا ہوچـکے ہیں جبکہ آٹھ سو بیس افراد کورونا کے نتیجے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

ٹیگس