Jun ۰۱, ۲۰۲۱ ۰۸:۴۶ Asia/Tehran
  • حماس کی عوامی مقبولیت سے اسرائیل کو تشویش، مقبوضہ علاقہ اسرائیل کے لئے جہنم بن سکتا ہے!!!

تحریک حماس نے تحریک فتح سے بالکل الگ راستے پر چلتے ہوئے اسرائیل سے ٹکرانے کا فیصلہ کیا تو اسے غزہ پٹی ہی نہیں بلکہ فتح کے گڑھ مانے جانے والے رام اللہ شہر میں، وہ بھی صرف مسلمانوں نہیں بلکہ عیسائیوں کے درمیان بھی زبردست حمایت حاصل ہو رہی ہے۔

برطانوی اخبار اینڈیپنڈینٹ کے نامہ نگار نے رام اللہ سے اپنی رپورٹ میں کہا کہ سمیر عوض نام کا جوان منارہ اسکوائر پر کھڑا نظر آیا، وہاں اور بھی جوان تھے۔ میں ان کے درمیان جا کر گفتگو میں شریک ہوا تو معلوم ہوا کہ سب مستقبل کے حوالے سے حیران و پریشان ہیں۔

سمیر عوض کا کہنا تھا کہ رام اللہ میں کچھ بھی پرامید نظر نہیں آتا، ہر طرف ویرانی اور تباہی ہے، یہ جوانوں کے درمیان عام احساس ہے۔ 23 سالہ سمیر کو بھی غصہ ہے، اسرائیل پر نہیں بلکہ تحریک فتح کی قیادت پر بھی اتنا ہی غصہ ہے کیونکہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یہی نہيں وہ تو روز مرہ کی چیزیں مہیا کرانے میں بھی ناکام ثابت ہوئی ہے۔

حالیہ جنگ کے بعد یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اسرائیل کے درمیان عرب آبادی اور اسرائیلی فورسز میں جھڑپیں شروع ہوگئی ہيں۔ یہ تب ہوا جب اسرائیل، غزہ پر میزائل برسا رہا تھا اور فلسطینی تنظیمیں غزہ سے میزائل فائر کر رہی تھیں۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا اعلان ہو جانے کے بعد بھی مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور فلسطینیوں میں جھڑپیں ہوئیں کیونکہ اسرائیلی فوجیوں نے سیکڑوں فلسطینیوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی۔

اینڈیپنڈینٹ کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ تحریک فتح کی مقبولیت اور اعتماد پوری طرح ختم ہو گیا ہے جبکہ حماس کی حمایت ہر طرف بڑھ رہی ہے۔ حماس کو ہر مذہب کے فلسطینی اس طاقت کے طور پر دیکھتے ہیں جو اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔

محمد الخوری ایک ملازم ہیں، ان کا کہنا ہے کہ قدیم زمانے سے تحریک فتح کا حامی تھا، میں نے کبھی حماس کی حمایت نہیں کی لیکن اب ہم دیکھتے ہیں کہ حماس کس شجاعت سے اسرائیل  سے مقابلہ کر رہا ہے۔ اسرائیل نے بہت حملے کئے لیکن وہ حماس کو شکست نہيں دے سکا۔

اب تو مغربی کنارے کے عیسائی بھی کہہ رہے ہیں کہ اس جنگ میں حماس نے خود کو فلسطینیوں کی مضبوط قیادت اور نمائندے کو طور پر پیش کیا۔ عیسائی رہنما اور سابق وزیر حنان عشراوی نے کہا کہ ہم بیت المقدس اور رام اللہ میں لوگوں کے ہاتوں میں حماس کے پرچم دیکھتے ہيں۔ یہ پہلے کبھی نہيں ہوا، حماس بہت آگے جا چکی ہے اور جوانوں کے درمیان کی حمایت مسلسل بڑھ رہی ہے حتی عیسائیوں کے درمیان بھی۔

 

بشکریہ

اینڈیپنڈینٹ

٭ مقالہ نگار کے موقف سے سحر عالمی نیٹ ورک کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے٭

 

ٹیگس