Aug ۱۳, ۲۰۲۱ ۰۸:۵۵ Asia/Tehran
  • امریکی فوجیوں نے پھر افغانستان کا رخ کیا

امریکہ نے ایک بار پھر افغانستان میں اپنے ہزاروں فوجی تعینات کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

فارس نیوز کے مطابق امریکی وزارت جنگ کے ترجمان جان کربی نے اعلان کیا ہے کہ تین ہزار امریکی فوجی آئندہ چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں کے دوران کابل میں تعینات کر دئے جائیں گے۔

جان کربی نے دعوا کیا ہے کہ امریکی فوجیوں کی یہ تعیناتی وقتی ہوگی اور ان کی سرگرمیاں زیادہ تر سفارتی ہوں گی اور وہ امریکہ جانے کے خواہاں افراد کو جلد ویزا جاری کرنے میں مدد کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی دعوا کیا کہ امریکہ بارِ دیگر جنگ میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

رپورٹس کے مطابق برطانیہ بھی اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے 600 فوجی افغانستان میں تعینات کرے گا۔

دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرایس کا کہنا ہے کہ کابل میں امریکی سفارت خانے میں سفارتی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔

اُدھر امریکی روزنامہ نیویارک ٹائمز نے خبر دی ہے کہ ایک امریکی وفد طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے جس کا مقصد طالبان کو کابل میں امریکی سفارتخانے پر حملہ نہ کرنے پر رضامند کرنا ہے۔

امریکہ کے ساتھ ساتھ جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے بھی جمعرات کے روز افغانستان میں موجود اپنے شہریوں سے یہ اپیل کی ہے کہ وہ طالبان کی تیز رفتار پیش قدمی کے پیش نظر افغانستان کو فورا ترک کر دیں۔

ادھر افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی جاری ہے اور اب طالبان نے افغانستان کے دوسرے اہم ترین شہر قندھار پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔

خیال رہے کہ طالبان نے امریکیوں کےاعلانِ انخلا کے فورا بعد سرکاری فورسز اور حکومتی مفادات کے خلاف اپنے حملے تیز کر دئے تھے اور اس وقت ملک کے بڑے حصے میں پر اُن کا قبضہ ہو چکا ہے جس میں سات صوبوں کے صدر مقام اور پڑوسی ممالک سے ملنے والی کئی سرحدی گزرگائیں بھی شامل ہیں۔
 

ٹیگس