Oct ۱۸, ۲۰۲۱ ۰۹:۳۴ Asia/Tehran
  • اسلام کا فاتحہ پڑھنے پر آل سعود کمربستہ، ملک کے ساحلوں پر آزادی کے عنوان سے عریانیت کی اجازت دے دی

سعودی عرب کے اقتصادی لحاظ سے اہم ساحلی شہر ملک عبد اللہ میں خواتین کو بکنی پہن کر گھومنے، حقہ پینے اور اپنے ساتھ گھریلو جانور رکھنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

اسنا نیوز/ فرانس پریس نے ملک عبد اللہ شہر کے  ”پیور بیچ“ نامی ساحل کے افتتاح کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق، کنزرویٹیو ملک کے نام سے پہچانا جانے والے والا ملک سعودی عرب اب آزادی کے نام پر عریانیت و برہنگی کو پسند کرنے والوں کے لئے ایک نیا و انوکھا البتہ افسوسناک تجربہ پیش کر رہا ہے۔

پیور بیچ ساحل کا اگست کے مہینے میں افتتاح کر دیا گیا ہے۔ نیلگوں پانی اور سفید ریت کے اس ساحل پر لوگ بنا کسی روک ٹوک اور انسانی و اسلامی بندھنوں سے آزاد ہو کر اپنے من چاہے طریقوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ حواتین کو بکنی پہننے کی اجازت ہے، وہ حقہ بھی پی سکتی ہیں اور کتے بلی جیسے اپنے گھریلو جانور کو بھی لاکر اپنی گود میں بٹھا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس ساحل پر غروب آفتاب کے بعد موسیقی کا بھی ’’معقول!‘‘ انتظام ہے۔

مڈل ایسٹ نیوز سے انٹرویو میں ایک سعودی خاتون نے فرانس پریس سے کہا کہ اسے اس بات پر خوشی ہے کہ وہ ساحل پر جا کر اپنے من چاہے طریقے سے وہاں کی سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

فرانس پریس کے مطابق، اس ساحل کے ذمہ دار افراد کو خواتین اور مردوں کے درمیان قانونی یا غیر قانونی تعلقات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور اس علاقے میں ساتھ رہنے والے مرد اور عورت کا آپس میں شرعی لحاظ سے محرم ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ حقوق اللہ کو پامال کرنے والے اس ساحل پر حقوقِ انسانی اور انکی پرائیویسی کو یقینی بنانے کے مقصد سے وہاں جانے والوں سے انکے موبائل فون رکھوا لئے جاتے ہیں اور انہیں موبایل فون لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی تاکہ کہیں کوئی سیاح اپنی پرائیویسی کو خطرہ میں پڑتا دیکھ کر آزردہ خاطر نہ ہو جائے۔

سعودی عرب نے 27 ستمبر 2019 کو پہلی بار سبھی غیرملکی سیاحوں کے لئے سیاحت کا ویزا دینے کی سہولت مہیا کرائی جس کے بعد وہ پورے سال الکٹرانک سسٹم یا ملک کے کسی بھی سرحدی پاس سے داخل ہوتے وقت سیاحت کا ویزا لے سکتے ہیں۔

اسی طرح سعودی عرب نے تنہا خاتون کے ساتھ کسی محرم ہمراہ کے ہونے یا غیر ملکی خاتون شہری کے لئے چادر یا برقع پہننے کی شرط بھی ہٹا دی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ آل سعود حکومت نے خدمتِ حرمین شریفین کے اپنے فخریہ شرف کو نظر انداز کرتے ہوئے وژن-2030 منصوبے کے تحت غیر شرعی، متنازعہ اور اسلام کے بدیہی قوانین سے متصادم اقدامات کا سلسلہ تیز کر دیا ہے جس کا ہدف سیاحت کو فروغ دینا ہے۔

 

ٹیگس