May ۳۱, ۲۰۲۲ ۱۱:۵۷ Asia/Tehran
  • ترقی کے مغربی وژن کی طرف تیزی سے بڑھتا سعودی عرب، ریاض میں خواتین کا فیشن شو

سعودی دارالحکومت ریاض میں خواتین کے عِبایَا فیشن شو کا انعقاد کیا گیا جس میں سعودی روایتی عبایا کے ساتھ ساتھ ماڈرن ڈیزائن کے عبایا کو بھی ریمپ پر پیش کیا گیا۔

معروف ڈیزائنر صائمہ عزیز کے ڈیزائن کردہ نت نئے ماڈرن عبایا کے حوالے سے فیشن شو کا انعقاد کیا گیا جس کو دیکھنے کے لیے سعودی خواتین کے علاوہ دیگر ممالک کی خواتین نے بھی شرکت کی۔ اس فیشن شو میں سعودی مردوں نے بھی خاصی دلچسپی دکھائی اور قابل توجہ تعداد میں حاضر ہوئے۔

مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی سعودی اور دیگر ممالک کی خواتین نے ماڈرن اور دیدہ زیب عبایا پہن کر ریمپ پر ماڈل کی طرح کیٹ واک کیا۔ سعودی خواتین کا کہنا تھا کہ جدید دور میں ملبوسات میں نت نئے ڈیزائن کے ساتھ عبایا کو بھی بہت خوبصورت اور ماڈرن بنایا گیا ہے اور یہ عبایا خواتین بہت پسند کریں گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل فرانس پریس نے ملک عبد اللہ شہر کے ”پیور بیچ“ نامی ساحل کے افتتاح کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس کے مطابق، کنزرویٹیو ملک کے نام سے پہچانا جانے والا ملک سعودی عرب اب آزادی کے نام پر عریانیت و برہنگی کو پسند کرنے والوں کے لئے ایک نیا اور انوکھا البتہ افسوسناک تجربہ پیش کر رہا ہے۔

پیور بیچ ساحل کا اگست کے مہینے میں افتتاح کر دیا گیا ہے۔ نیلگوں پانی اور سفید ریت کے اس ساحل پر لوگ بنا کسی روک ٹوک اور انسانی و اسلامی بندھنوں سے آزاد ہو کر اپنے من چاہے طریقوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔ حواتین کو بکنی پہننے کی اجازت ہے، وہ حقہ بھی پی سکتی ہیں اور کتے بلی جیسے اپنے گھریلو جانور کو بھی لاکر اپنی گود میں بٹھا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس ساحل پر غروب آفتاب کے بعد موسیقی کا بھی انتظام ہے۔

مڈل ایسٹ نیوز سے انٹرویو میں ایک سعودی خاتون نے فرانس پریس سے کہا کہ اسے اس بات پر خوشی ہے کہ وہ ساحل پر جا کر اپنے من چاہے طریقے سے وہاں کی سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

فرانس پریس کے مطابق، اس ساحل کے ذمہ دار افراد کو خواتین اور مردوں کے درمیان قانونی یا غیر قانونی تعلقات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور اس علاقے میں ساتھ رہنے والے مرد اور عورت کا آپس میں شرعی لحاظ سے محرم ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ حقوق اللہ کو پامال کرنے والے اس ساحل پر حقوقِ انسانی اور انکی پرائیویسی کو یقینی بنانے کے مقصد سے وہاں جانے والوں سے انکے موبائل فون رکھوا لئے جاتے ہیں اور انہیں موبایل فون لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی تاکہ کہیں کوئی سیاح اپنی پرائیویسی کو خطرہ میں پڑتا دیکھ کر آزردہ خاطر نہ ہو جائے۔

‎‎سعودی عرب نے 27 ستمبر 2019 کو پہلی بار سبھی غیرملکی سیاحوں کے لئے سیاحت کا ویزا دینے کی سہولت مہیا کرائی جس کے بعد وہ پورے سال الکٹرانک سسٹم یا ملک کے کسی بھی سرحدی پاس سے داخل ہوتے وقت سیاحت کا ویزا لے سکتے ہیں۔

اسی طرح سعودی عرب نے تنہا خاتون کے ساتھ کسی محرم کے ہمراہ  ہونے یا غیر ملکی خاتون شہری کے لئے چادر یا برقع پہننے کی شرط بھی ہٹا دی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ آل سعود حکومت نے خدمتِ حرمین شریفین کے اپنے فخریہ شرف کو نظر انداز کرتے ہوئے وژن-2030 منصوبے کے تحت سیاحت کو فروغ دینے کے بہانے غیر شرعی، متنازعہ اور اسلام سے متصادم قوانین و اقدامات کا سلسلہ تیز کر دیا ہے ۔

ٹیگس