Mar ۱۰, ۲۰۲۶ ۱۹:۵۳ Asia/Tehran
  • وزیر خارجہ عباس عراقچی: بات چیت کا کوئی پروگرام نہيں

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات اب ایران کے ایجنڈے میں شامل نہیں رہے، کیونکہ ماضی میں ہونے والے مذاکرات کا تجربہ انتہائی تلخ ثابت ہوا ہے۔

سحرنیوز/ایران: امریکی نشریاتی ادارے پی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کا ایران کے نئے رہبر کے طور پر انتخاب دراصل قیادت کے تسلسل اور استحکام کی علامت ہے اور یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ ایران اپنی پالیسیوں اور موقف پر قائم رہے گا۔
عراقچی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کے دوران واشنگٹن نے پیش رفت کا اعتراف کیا تھا اور یہ یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ ایران پر حملہ نہیں کیا جائے گا، تاہم مذاکرات کے دوران ہی ایران پر حملہ کر دیا گیا۔ ان کے مطابق اسی تجربے کے بعد اب امریکہ کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کا امکان بہت کم ہے۔
انہوں نے خلیج فارس میں تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں کے حوالے سے کہا کہ ایران نے نہ تو آبنائے ہرمز بند کی ہے اور نہ ہی جہازوں کی آمد و رفت روکی ہے۔ ان کے بقول خطے میں عدم استحکام دراصل امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا نتیجہ ہے، جس کی وجہ سے آئل ٹینکر اور تجارتی جہاز اس راستے سے گزرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران پر جنگ مسلط کی گئی ہے اور جو اقدامات کیے جا رہے ہیں وہ صرف دفاعِ خود کے تحت ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے پہلے ہی خطے کے ممالک کو خبردار کر دیا تھا کہ اگر امریکہ حملہ کرے گا تو ایران خطے میں موجود امریکی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے جنگ پورے خطے تک پھیل سکتی ہے۔

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

 

ٹیگس