Mar ۱۰, ۲۰۲۶ ۱۹:۴۸ Asia/Tehran
  • وٹکاف ، عباس عراقچی سے رابطہ کے لئے ہاتھ پیر مار رہے

 امریکی صدر کے خصوصی نمائندے نے ایران کے وزیر خارجہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ جنگ بندی کے امکان پر بات کی جا سکے۔

سحرنیوز/ایران: ایرنا کے مطابق الجزیرہ کے تہران میں موجود صحافی نورالدین الدغیر نے بتایا کہ قابل اعتماد ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وِٹکاف ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اب تک ایران کی جانب سے اس رابطے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق امریکی فریق جنگ بندی کے بارے میں ایران کا مؤقف جاننا چاہتا ہے۔
ایک اور ذریعے نے بتایا کہ فی الحال ایران کی حکمت عملی میں جنگ روکنے کی کوئی بات شامل نہیں اور یہ فیصلہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی موجودہ پالیسی کا حصہ ہے۔
دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا کہ امریکہ کی حکمت عملی یہ تھی کہ رہبر انقلاب کی شہادت کے بعد ایران کے حکومتی اور انتظامی ڈھانچے کو کمزور کیا جائے اور ایک شدید مگر مختصر جنگ کے ذریعے ایران کو دباؤ میں لایا جائے۔ تاہم ان کے بقول امریکہ نے یہ اندازہ نہیں لگایا تھا کہ ایرانی عوام اور قیادت سخت ردعمل دیں گے۔
لاریجانی نے کہا کہ دشمن کا مقصد ابتدائی حملوں کے ذریعے ایرانی عوام کا حوصلہ توڑنا اور ملک میں روزمرہ زندگی کو متاثر کرنا تھا تاکہ لوگ ایندھن اور خوراک جیسی بنیادی ضروریات کے لیے مشکلات کا شکار ہوں۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی کوششوں کے باعث یہ منصوبہ ناکام رہا اور بڑھتی ہوئی طلب کے باوجود عوام کی ضروریات پوری کی گئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج پوری قوت کے ساتھ میدان میں موجود ہیں اور سپاہ، فوج، بسیج اور پولیس سب ملک کے دفاع میں مصروف ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے میزائل حملوں نے مخالفین کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

 

ٹیگس