ایران و ترکی کے صدور کی ٹیلی فونی گفتگو ، غلط فہمیاں دور کرنے پر آمادگی
یران کے صدرمسعود پزشکیان نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ترکیہ پر مبینہ میزائل حملوں کے دعوؤں کی حقیقت جانچنے کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کے لیے تیار ہے
سحرنیوز/ایران: ایران کے صدرمسعود پزشکیان نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ترکیہ پر مبینہ میزائل حملوں کے دعوؤں کی حقیقت جانچنے کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کے لیے تیار ہے، تاکہ دونوں دوست ممالک کے تعلقات منفی پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہوں۔
ایرنا کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو میں خطے کی تازہ صورتحال اور ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی و عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ بعض قوتیں ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور میڈیا کے ذریعے ترکیہ پر ایرانی میزائل حملوں کے الزامات پھیلائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران ہمیشہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے حق میں رہا ہے، بشرطیکہ کسی بھی ہمسایہ ملک کی سرزمین، فضائی حدود یا سمندری حدود کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
مسعود پزشکیان نے ایران کے ساتھ ہمدردی اور خطے میں امن کے لیے ترکیہ کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اگر کسی قسم کی غلط فہمی پیدا ہوئی ہے تو اسے دور کرنے کے لیے مشترکہ ٹیم تشکیل دی جا سکتی ہے۔
اس موقع پر صدر رجب طیب اردوغان نے بھی ایران کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے شہید رہبر انقلاب اور دیگر شہریوں، خصوصاً میناب کے اسکول میں شہید ہونے والی بچوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کو ایران کے نئے رہبر کے طور پر منتخب ہونے پر ان کی کامیابی کی دعا بھی دی۔
اردوان نے کہا کہ ترکیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا اور ایران کے داخلی معاملات میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو ناقابل قبول سمجھتا ہے۔
ان کے مطابق موجودہ حالات میں سفارت کاری اور مذاکرات کے دروازے کھولنا پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel