شہادت پسندانہ کارروائیاں زور پکڑ گئیں، صیہونیوں کی نیندیں حرام (ویڈیوز)
مقبوضہ بیت المقدس میں واقع جنین کیمپ میں صیہونیوں کی دہشتگردی کے بعد اب صیہونیوں کے خلاف فلسطینیوں کی شہادت پسندانہ کارروائیوں کے ایک نئے سلسلے کا آغاز ہو گیا ہے.
سحر نیوز/عالم اسلام: گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کم از کم پانچ ایسی کارروائیاں فلسطینی نوجوان انجام دے چکے ہیں جس میں دسیوں صیہونیوں کے ہلاک و زخمی ہونے کی خبر ہے۔ شہادت پسندانہ کارروائی کرنے والوں میں ایک تیرہ سالہ بچہ بھی شامل ہے جس نے کارروائی کے دوران دو صیہونیوں کو زخمی کر دیا تھا۔ شہادت پسندانہ کارروائیوں میں فائرنگ، چاقو زنی اور گاڑی سے حملہ ور ہونے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
صیہونی وزیر اعظم نتن یاہو نے جمعے کے روز مقبوضہ بیت المقدس میں اکیس سالہ فلسطینی مجاہد کی شہادت پسندانہ کاروائی کو گزشتہ چند برسوں کا بدترین واقعہ قرار دیا ہے۔ اس درمیان دسیوں ہزار صیہونیوں نے ایک بار پھر تل ابیب اور حیفا میں مظاہرہ کر کے نتن یاہو حکومت سے اپنی ناراضگی کا اعلان کیا۔
ایک طرف جہاں فلسطینیوں میں خوشی ہے وہیں صیہونیوں میں شدید خوف و ہراس پیدا ہوگیا ہے جس کے تحت انہوں نے گزشتہ روز اپنے انٹرنل سکیورٹی کے وزیر پر چڑھائی کر کے اپنی سخت ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔
(مقبوضہ فلسطین میں تواتر کے ساتھ ہونے والی شہادت پسندانہ کارروائی پر خوشی مناتے فلسطینی)
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ صیہونی فوجیوں نے ایک اور فلسطینی نوجوان کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ فلسطین کی خبر رساں ایجنسی سما کی رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ غرب اردن کے "کدومیم" کالونی میں رونما ہوا۔
صیہونی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ اس نوجوان کو صیہونی فوجیوں نے اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا جب وہ فائرنگ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
صیہونی فوجیوں نے بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کو گرفتار کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے جبکہ صیہونی ذرائع تمام صیہونیوں کو مسلح کئے جانے پر مبنی ایک نئے منصوبے کی خبر بھی دے رہے ہیں۔
گزشتہ ستر برسوں سے مسلسل بنیادوں پر صیہونی دہشتگردی اور جارحیت سے روبرو فلسطینی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ قتل و غارت، جنگ و جارحیت اور نسل پرستی کی خوگر غاصب صیہونی مشینری کو لگام دینے کا واحد راستہ اسکے خلاف مسلحانہ جد وجہد ہے اور اسی بنیاد پر اب انہوں نے ہر ممکن شکل میں غاصب صیہونیوں کو نقصان پہنچانے کا عزم کر لیا ہے۔