عراق کی جانب سے اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف کسی بھی جارحیت کےلئے استعمال کرنے کی مخالفت
عراقی حکومت اور ملک کے شیعہ کوآرڈینیشن فریم ورک نے الگ الگ بیانات میں ملک کی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف کسی بھی جارحیت کے لئے استعمال کرنے کی مخالفت اور مسترد کرنے پر زور دیا۔
سحرنیوز/عالم اسلام: عراقی خبر رساں ایجنسی واع کی رپورٹ کے مطابق عراقی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے ترجمان صباح النعمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تیز علاقائی پیش رفت اور ان کے نتیجے میں خطے کی سلامتی اور استحکام کے خلاف پیدا ہونے والے تناؤ اور خطرات کی روشنی میں جمہوریہ عراق کسی بھی ملک کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لئے اپنی سرزمین، فضائی حدود یا علاقائی پانیوں کے استعمال کو مسترد کرنے میں اپنے مستقل اور اصولی موقف کا اعادہ کرتا ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
انہوں نے مزید کہا کہ عراقی حکومت کی پالیسی ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا اور ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا ہے۔ عراق اس بات کو یقینی بنانے کے لئے پوری طرح پرعزم ہے کہ اس کی سرزمین اس کے کسی بھی پڑوسی ملک کی سلامتی اور استحکام کے لئے خطرہ نہ ہو۔
عراقی شیعہ کوآرڈینیشن فریم ورک کے محکمہ اطلاعات نے بھی ایک بیان میں عراقی سرزمین کو کسی بھی ملک بالخصوص ایران پر حملے کے لئے استعمال کرنے کی مخالفت پر زور دیا اور بحرانوں کے حل کے لئے سفارتی اور سیاسی حل کی حمایت کی۔
اس بیان میں زور دیا گیا ہے کہ خطہ نئے فوجی تنازعات کو ہرگز برداشت نہیں کر سکتا خاص طور پر اقتصادی چیلنجوں اور تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کی روشنی میں کیونکہ ایسا واقعہ خطے کی اقوام کے مصائب اور مسائل کو دوگنا کر دے گا اور علاقائی استحکام کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔