Jan ۲۵, ۲۰۲۶ ۲۱:۴۶ Asia/Tehran
  • رہبرانقلاب اسلامی پر کوئی بھی حملہ عالم اسلام کے لیے ریڈ لائن ہے: ترکیہ کی اہل بیت علما انجمن

ترکیہ کی اہل بیت علما انجمن نے ایک بیان میں رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای پر کسی بھی حملے کو عالم اسلام کے لیے ریڈ لائن قرار دیا ہے۔

سحرنیوز/عالم اسلام:  بیان میں کہا گیا ہے کہ آج انسانیت، بالخصوص عالم اسلام اپنی تاریخ کے ایک انتہائی حساس دور سے گزر رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ سے آگے پوری دنیا میں صحیح اور غلط کی سرحدیں واضح ہو چکی ہیں اور دو محاذ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو چکے ہیں۔

ہر باضمیر اورعقل مند شخص پر واضح ہے کہ ظلم و استکبار کا جھنڈا بڑے شیطان امریکہ اور اس کی ناجائز اولاد غاصب صیہونی حکومت کے ہاتھ میں ہے جبکہ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی دانشمندانہ قیادت اور فرمان کے تحت محاذ حق کے علمبردار کی حیثیت سے استقامتی محاذ انصاف کے حصول اور مظلوموں کی آزادی کے لیے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔

اس نازک لمحے میں ظالموں کے ساتھ کھڑا ہونا اور مظلوموں کی مدد کرنا دنیا کے تمام آزادمنش لوگوں کا مذہبی اور انسانی فریضہ ہے۔ اس قسم کی صورت حال میں ہم فلسطین سے یمن تک، لبنان و شام سے میانمار اور وینزویلا تک دنیا کے مظلوموں کے حامی اور ساتھی ہیں ۔

ہمیں فالو کریں:  

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

 

 

ادھرلبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایران کے ساتھ اظہاریکجہتی اور واشنگٹن کی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور موساد کی طرف سے تہران کے خلاف مسلحانہ کارروائیوں کی مذمت میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں لبنان کے سیاسی، مذہبی اور میڈیا گروہوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تل ابیب تہران کے خلاف وسیع پیمانے پر منفی میڈیا پروپیگنڈا کررہا ہے تاکہ موساد کے زرخرید ایجنٹوں اور آلۂ کاروں کے ذریعے افراتفری کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔

اجلاس کے شرکا نے کہا کہ ایران جس صورت حال کا سامنا کر رہا ہے اس کی وجہ استعماری منصوبوں کے خلاف مزاحمت، امریکی تسلط کو مسترد کرنا اور مظلوموں کے لئے آواز اٹھانا ہے۔

لبنان کی مختلف سیاسی جماعتوں نے ایرانی عوام کے خلاف تیار کی جانے والی تمام سازشوں کے مقابلے میں ان کی حمایت پر زور دیا ہے۔

 

پاکستان اور ہندوستان کی سیاسی اورمذہبی جماعتوں کے رہنماوں من جملہ مولانا کلب جواد، علامہ راجا ناصر عباس جعفری ، حافظ نعیم الرحمان اور مولانا فضل الرحمان واضح طور ایران کے خلاف امریکی صدر کے دھمکی آمیز بیانات پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئےعالم اسلام سے امریکہ، غاصب صیہونی حکومت اور استکباری طاقتوں کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جب اسلامی ممالک کو امریکی اور صیہونی جارحیت کو روکنے کیلئے فوری اور عملی اقدام کرنا ہوگا۔

ایک سیاسی شخصیت کی طرف سے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی رہنما کے خلاف توہین اوردھمکی آمیز زبان کا استعمال نہ صرف ذاتی بے عزتی ہے بلکہ عقائد، عوام کی مرضی اور بین الاقوامی احترام کے اصول پرکھلم کھلا حملہ ہے۔ مذہبی رہنماوں کی قانونی حیثیت کا تعین عالمی طاقتوں کے بیان بازی سے نہیں ہوتا بلکہ علم و تقویٰ اور قابلیت سے ہوتا ہے۔ کسی کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسری قوموں کے روحانی پیشواوں کا فیصلہ کرے ۔ امریکہ اور سامراجی طاقتوں نے افغانستان، عراق اور فلسطین میں جس جارحیت کا ارتکاب کیا وہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ وہ مستقبل میں اسلامی ممالک میں کیا کرنے والے ہیں۔

 

ٹیگس