شام کے وزیرخارجہ روس کے دورے پر ماسکو پہنچ گئے
-
شام کے وزیرخارجہ روس کے دورے پر ماسکو پہنچ گئے
شام کے وزیرخارجہ ولید المعلم دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں شام اور روس کے تعاون اور ہم آہنگی کو جاری رکھنے کے طریقہ کار پر بات چیت کے لئے ماسکو پہنچے ہیں -
شام کے وزیرخارجہ نے ماسکو پہنچنے پر پہلے روسی پارلیمنٹ کے اسپیکر سرگئی ناریشکین سے ملاقات کی انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر شام اور روس کی کارروائیوں سے شام میں دہشت گردوں خاص طور پر داعش کی نابودی کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے-
واضح رہے کہ روسی فضائیہ نے شام کی حکومت کی درخواست پر گذشتہ تیس ستمبر سے شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پراپنی کارروائیاں شروع کی ہیں جو اب تک جاری ہیں - روسی فضائیہ کے حملوں میں بڑی تعداد میں دہشت گرد ہلاک اور ان کے ہتھیاروں کے بہت سے گودام بھی تباہ ہوچکے ہیں -
شام کے وزیرخارجہ نے روس کے لڑاکا طیارے کو ترکی کے ذریعے مار گرائے جانے کے اقدام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کا یہ اقدام اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ انقرہ کی حکومت انتہا پسند اور دہشت گرد گروہوں کی حامی ہے - انہوں نے کہا کہ ترکی نے روس کے طیارے پر حملہ کر کے شام کی بھی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے انہوں نے کہا کہ داعش جبہہ النصرہ اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو نابود کرنے کی کوششوں سے ترک حکام سخت ناراض ہیں -
روسی پارلیمنٹ کے اسپیکر سرگئی ناریشکین نے بھی کہاکہ جس نے روسی لڑاکا طیارے کو مار گرایا ہے اس کا پتہ لگاکر اس کو سزا دی جائے گی انہوں نے کہاکہ ترکی کا یہ اقدام مجرمانہ کارروائی اور دہشت گردوں کی حمایت ہے -
روسی صدر کے ترجمان دیمیتری پسکوف نے بھی شامی وزیرخارجہ سے ملاقات میں کہا کہ شام کی سرحد کے اندرترکی کے ذریعے روسی طیارے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ماسکو انقرہ کے اس اقدام کو جرم اور دہشت گردوں کی حمایت سمجھتا ہے انہوں نے ترکی کی سرحد کے قریب دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ ماسکو اپنے نشانہ بنائے جانے والے لڑاکا طیارے کی پرواز کے راستے کو کنٹرول کرنے والے روسی ماہرین کی ہی رپورٹ کو معیار قرار دے گا -
روس اس بات کی سختی کے ساتھ تردید کرتا ہے کہ اس کے لڑاکا طیارے نے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی -