Jan ۰۷, ۲۰۱۶ ۱۵:۴۱ Asia/Tehran
  • بعض حکومتوں کی جانب سے بچوں کے خلاف تشدد کا سلسلہ جاری ہے: رپورٹ

ایسی حالت میں کہ عالمی برادری کو بچوں کے خلاف ہونے والے تشدد سے تشویش ہے بعض حکومتیں خاموشی کے سائے میں اور بعض حکومتیں انسانی حقوق کے دعویداروں کی حمایت سے بچوں کے خلاف تشدد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بچوں کے خلاف ہونے والے تشدد اور ان کی سرکوبی کے بارے میں مختلف رپورٹوں پر ایک نگاہ ڈالنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسرائیل، آل سعود اور آل خلیفہ جیسی حکومتیں جرائم کا ارتکاب کرنے میں کسی بھی حد کی قائل نہیں اور بغیر کسی دریغ کے اپنے مجرمانہ اقدامات کو عملی جامہ پہناتی ہیں نیز بچوں کو بھی ان تشدد پسند حکومتوں نے اپنی پالیسیوں کا محور و مرکز بنا لیا ہے۔ اسی سلسلے میں غزہ محاصرے کے مقابلے کی کمیٹی کے سربراہ جمال الخداری نے کہا ہے کہ صیہونی حکومت نے انتفاضہ قدس کے دوران ایک گیارہ سالہ بچے کو قید کی سزا سنائی ہے۔ اس بچے کا نام علی علقم ہے اور اس وقت وہ دنیا کا سب سے کم عمر قیدی ہے۔

علی علقم کو ایسی حالت میں گرفتار کیا گیا کہ اس کے پیٹ اور ہاتھ میں تین گولیاں لگی تھیں۔ اس بچے کے گھر والوں کو اس کی گرفتاری کے بعد سے اب تک صرف ایک بار اس سے بیس منٹ تک ملاقات کرنے کی اجازت ملی ہے اور وہ بھی اسرائیلی فوجیوں کی موجودگی میں۔

جمال الخداری نے اس خبر کا اعلان کرتے ہوئے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صیہونی حکومت کی جیلوں میں قید بچوں کی مدد و حمایت کے اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کی جیلوں میں قید سیکڑوں فلسطینی بچوں کو بدترین حالات کا سامنا ہے۔

غاصب صیہونی حکومت بچوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے کے سلسلے میں پہلے نمبر پر ہے اور انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹوں کے مطابق یہ غاصب حکومت بچوں کی قاتل حکومت کے نام سے مشہور ہے۔

آل سعود اور آل خلیفہ حکومتیں بھی بچوں کے خلاف تشدد اور جرائم کا ارتکاب کرنے میں صیہونی حکومت کے ساتھ ساتھ ہیں اور صیہونی حکومت کے بعد اس سلسلے میں انہیں کا نمبر آتا ہے۔

ادھر بحرین کے انسانی حقوق مرکز نے رپورٹ دی ہے کہ بحرین میں گزشتہ ہفتے کے دوران ترسٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں اٹھارہ بچے تھے۔ اس رپورٹ کے مطابق بحرین میں دوہزار پندرہ میں گرفتار ہونے والے ایک ہزار آٹھ سو تراسی افراد میں دو سو سینتیس بچے اور چونتیس عورتیں تھی۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دو ہزار پندرہ میں ایک بیان میں بحرین میں گزشتہ پانچ سال کے دوران بچوں کے حقوق پامال کئے جانے کی خبر دی تھی اور کہا تھا کہ دو ہزار گیارہ سے یعنی بحرین میں عوامی تحریک شروع ہونے کے بعد سے اب تک پندرہ بحرینی بچوں کو قتل کیا گیا ہے اور ڈیڑھ ہزار بچوں کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ آل سعود حکومت بھی یمن پر اپنے وحشیانہ حملوں کے دوران بے گناہ عوام خاص طور سے بچوں کو شہید کر رہی ہے ۔

یمن پر سعودی اتحاد کے حملوں کے نتیجے میں اب تک ہزاروں یمنی شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ دسیوں ہزار افراد ان وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں بے گھر بھی ہوئے ہیں۔

علاوہ ازیں یمن پر سعودی اتحاد کے حملوں میں یمن کی اسی فی صد بنیادی تنصیبات اور طبی اور سروسز مراکز بھی تباہ ہوچکے ہیں۔ یمن کے قانونی حقوق و ترقی کے مرکز کی رپورٹ کے مطابق یمن پر سعودی اتحاد کے حملوں میں دسمبر دو ہزار پندرہ تک شہید ہونے والے سات ہزار چار سو گیارہ یمنیوں میں ایک ہزار سات سو انتیس بچے اور ایک ہزار تین سو نو عورتیں شامل ہیں۔

ٹیگس