سعودی عرب کے 60 فوجی افسروں کا استعفی، خوف یا ضمیر کی آواز
سعودی عرب کے 60 فوجی افسروں نے یمن میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے بعد ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے عہدوں سے استعفی دے دیا ہے۔
سعودی عرب کے شاہی خاندان کے راز فاش کرنے کے لئے مشہور ٹویٹر ہنڈلر، مجتہد کا کہنا ہے کہ ان 60 فوجی افسروں نے اس لئے بھی استعفی دیا کیونکہ انہیں یہ خوف بھی لاحق تھا کہ کہیں ان کا نام جنگي مجرموں کی فہرست میں شامل نہ کر دیا جائے۔
مجتہد نے ٹویٹ کیا کہ جنگ یمن میں شریک 60 افسروں نے استعفی دے دیا ہے۔ مجتہد نے لکھا کہ کچھ افسروں نے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اور دیگر نے جنگي مجرموں کی فہرست میں نام آنے کے خوف سے استعفی دے دیا ہے خاص طور پر اس لئے بھی کہ اب اقوام متحدہ نے یمن میں جنگي جرائم کے بارے میں ایک بیان بھی جاری کیا ہے۔
ٹویٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر افسروں کا استعفی قبول نہیں کیا گيا ہے اور سعودی ولیعہد محمد بن سلمان استعفی دینے والے افسروں کو مجرم قرار دے رہے ہیں اور انہیں سزائیں بھی دی جا سکتی ہے۔
اقوام متحدہ نے گزشتہ 28 اگست کو یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے جنگي جرائم کے ارتکاب پر ایک رپورٹ جاری کی تھی اور اس میں کہا تھا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اتحاد نے حملوں میں عام شہریوں کا قتل عام کیا ہے۔