پاکستانی وزیر اعظم کا قوم سے خطاب، میں پاکستان کو ذلیل ہوتے دیکھا ہے
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو بیرونی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتوار کو ووٹنگ میں جو بھی فیصلہ آئے گا میں اس کے بعد اور زیادہ تگڑا ہو کر سامنے آؤں گا۔
پاکستانی قوم سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں قوم سے براہ راست خطاب کر رہا ہوں کیونکہ پاکستان ایک ایسے وقت میں ہے جہاں ہمارے سامنے دو راستے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ میں پاکستان کی وہ پہلی نسل ہوں جو ایک آزاد ملک میں پیدا ہوئی کیونکہ پاکستان میری پیدائس سے چند سال پہلے بنا تھا، ہمارے والدین اس وقت پیدا ہوئے جب برصغیر میں انگریز قابض تھے۔
انہوں نے کہا کہ جب میں نے سیاست شروع کی تو منشور میں تین چیزیں رکھیں، پہلے انصاف، دوسرا انسانیت اور تیسری چیز خود داری تھی۔
انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کو ذلیل ہوتے دیکھا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانیوں کو ذلت ملی۔
وزیراعظم نے کہا کہ شاہین اس وقت اوپر جاتا ہے جب وہ مزاحمت کرتا ہے اور مشکل کا سامنا کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آزاد خارجہ کا مقصد پاکستان اور پاکستانیوں کا فائدہ تھا، کبھی کسی کے خلاف ہو ہی نہیں سکتا۔
وزیراعظم نے کہا کہ میں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کی کیونکہ نائن الیون میں پاکستان کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ جو پاکستانیوں کی جانی قربانی دی گئی وہ امریکا سمیت کسی ملک کی نہیں دی گئی، کوئی نیٹو ملک نے اتنی جانی قربانی نہیں دی، قبائلی علاقے پرامن ترین تھا، وہ علاقے کرائم فری تھے۔