امریکہ اب پاکستان میں ڈومور کے بجائے اپنی صفائی پیش کرنے پر اتر آیا
امریکہ اس سے پہلے پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کرتا تھا اور اب صورتحال کچھ اس قسم کی بن گئی ہے کہ امریکہ اب پاکستان سے مطالبہ کرنے کے بجائے اپنی صفائی پیش کرنے لگا ہے۔
امریکہ نے عمران خان کی جانب سے لگائے الزامات ایک بار پھر رد کردیئے۔
امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے دعوی کیا کہ لگائے گئے الزامات میں قطعی صداقت نہیں، آئین کی بالادستی اور جمہوری اصولوں کی حمایت کرتے ہیں۔
نیڈ پرائس کا کہنا ہے کہ ہم کسی ایک سیاسی جماعت کی حمایت نہیں کرتے۔
غور طلب ہے کہ امریکی معاون وزیر خارجہ برائے وسطی و جنوبی ایشیا ڈونلڈ لو سے جب پاکستان میں حکومت کی تبدیلی سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔
امریکی معاون وزیر خارجہ ان دنوں ہندوستان کا دورہ کررہے ہیں جہاں اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ نے ان کا انٹرویو کیا۔
انٹرویو کے دوران ان کی واشنگٹن میں تعینات پاکستانی سفیر سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔
ان سے جب پوچھا گیا کہ عمران خان یہ کہتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں کہ آپ نے امریکہ میں پاکستانی سفیر سے بات چیت کی اور انہیں کہا کہ اگر عمران خان تحریک عدم اعتماد کی صورت میں بچ جاتے ہیں تو پاکستان مشکل میں پڑجائے گا اور امریکہ پاکستان کو معاف نہیں کرے گا، کوئی ردِ عمل دیں گے؟
تاہم ڈونلڈ لو نے براہِ راست کوئی جواب دینے کے بجائے کہا کہ ہم پاکستان کی سیاسی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان کے آئینی عمل اور قانون کی حکمرانی کا احترام اور اس کی حمایت کرتے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کی اس طرح کی کوئی بات چیت ہوئی تھی تو انہیں سوال کو دوبارہ نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سوال پر میرے پاس آپ کے لیے بس یہی جواب ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی سابق وزیر شیریں مزاری کا کہنا ہےکہ مبینہ دھمکی آمیز خط سے متعلق امریکہ کا انکار سراسر جھوٹ ہے۔
شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ سرکاری کمیونیکیشن کے ذریعے پاکستان کو دھمکی دی گئی کہ عمران خان کو اقتدار سے ہٹاؤگے تو معاف کردیں گے۔
سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی امریکی اہلکاروں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی عراق میں موجودگی سے متعلق اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے سامنے جھوٹ بولا تھا۔
سابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ عمران خان کی مقبولیت کے باعث بیرونی عناصر خوفزدہ ہیں‘ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے۔ جبکہ سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چودھری فواد حسین کا کہنا تھا کہ یہ مراسلہ 7 مارچ کو تحریک عدم اعتماد سے ایک دن پہلے موصول ہوا۔
واضح رہے کہ امریکہ اس سے پہلے پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کرتا تھا اور اب صورتحال کچھ اس قسم کی بن گئی ہے کہ امریکہ اب پاکستان سے ڈومور کے بجائے اپنی صفائی پیش کرنے لگا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اگر امریکہ کے سامنے اپنے حقوق کیلئے کوئی کھڑا ہو جائے تو امریکہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ اس لئے کہ اسے معلوم ہے کہ اس کے مد مقابل کا مطالبہ حقیقت پر مبنی ہے۔