Nov ۳۰, ۲۰۲۵ ۱۳:۱۸ Asia/Tehran
  • پیٹ کی ضدی چربی سے نجات چاہتے ہیں؟ یہ 2 آسان عادات اپنائیں

حالیہ برسوں میں تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ پیٹ اور کمر کے گرد اضافی چربی یا توند متعدد دائمی امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

سحر نیوز/صحت: پیٹ اور کمر کے گرد اضافی چربی سے ذیابیطس ٹائپ 2، میٹابولک سینڈروم، جگر پر چربی چڑھنے کے مرض، امراض قلب، فالج، کینسر اور الزائمر جیسے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جسمانی وزن میں کمی لانا نہ صرف شخصیت کو بہتر بناتا ہے بلکہ صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔

مگر جسمانی وزن میں کمی لانے کے لیے ورزش بہتر ہوتی ہے یا آپ کی غذائی عادات؟

 

اس بات کا جواب ایک نئی طبی تحقیق میں دیا گیا۔

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ غذا اور ورزش دونوں جسمانی وزن میں کمی لانے خاص طور پر توند کی چربی گھلانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

اس تحقیق میں 7 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا۔

ان افراد کی اوسط عمر 49 سال تھی اور ان کی صحت کا جائزہ 7 سال یا اس سے زائد عرصے تک لیا گیا۔

ان افراد کی جسمانی سرگرمیوں کو ٹریک کیا گیا جبکہ جسمانی چربی کا تعین کرکے ان کی غذائی عادات کی تفصیلات حاصل کی گئیں۔ 

ہمیں فالو کریں: 

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ صحت کے لیے اچھی غذا اور ورزش کے امتزاج سے جسمانی چربی کی مقدار میں سب سے زیادہ کمی آتی ہے۔

اس کے مقابلے میں صرف اچھی غذا یا ورزش کو اپنانے پر چربی کی سطح میں معمولی کمی آتی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ جسمانی سرگرمیوں اور غذائی تبدیلیوں سے توند کی چربی میں نمایاں کمی یا تبدیلیاں آتی ہیں، یعنی یہ چربی طرز زندگی میں صحت مند تبدیلیوں پر نمایاں ردعمل ظاہر کرتی ہے۔

محققین کے مطابق غذائی اور جسمانی سرگرمیوں کے امتزاج کو اپنانے والے افراد کی مجموعی جسمانی چربی میں لگ بھگ 2 کلو جبکہ توند کی چربی میں 150 گرام کمی آئی۔

 

انہوں نے بتایا کہ یہ بہت اہم فرق ہے، کیونکہ جسمانی چربی میں اضافے سے کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 11 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غذائی معیار اور جسمانی سرگرمیوں کو بہتر بنانے سے نہ صرف جسمانی وزن میں کمی آتی ہے بلکہ جسمانی چربی کو گھلانے میں بھی مدد ملتی ہے۔

محققین کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں لگ بھگ 3 ارب افراد موٹاپے یا زیادہ جسمانی وزن کے شکار ہیں اور جسمانی وزن میں اضافہ سست روی سے ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ طویل المعیاد بنیادوں پر چربی ذخیرہ ہونے سے خاص طور پر پیٹ اور کمر کے اردگرد چربی جمع ہونے سے اندرونی اعضا کو نقصان پہنچتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع ہوئے۔

ٹیگس