Jan ۰۷, ۲۰۲۶ ۱۱:۱۸ Asia/Tehran

سائنسدانوں نے معدے اور ذہانت کے درمیان موجود حیران کن تعلق دریافت کیا ہے۔

سحرنیوز/صحت: درحقیقت معدے میں موجود بیکٹیریا اور ذہانت کے درمیان تعلق موجود ہے۔

امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جب معدے میں موجود جرثوموں میں تبدیلیاں آتی ہیں تو اس سے دماغی افعال پر براہ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ معدے میں موجود بیکٹیریا دماغی افعال کے لیے اہم ہوتے ہیں۔

اس تحقیق میں معدے میں موجود بیکٹیریا اور مختلف جانداروں کے دماغی افعال کا تجزیہ کیا گیا۔

تحقیق کے لیے انسان، بندر اور ایک اور جانور کے معدے کے بیکٹیریا کو چوہوں کے جسموں میں داخل کیا گیا۔

8 ہفتوں بعد محققین نے چوہوں کی دماغی سرگرمیوں میں واضح فرق کو دریافت کیا۔

چھوٹے جانور کے بیکٹیریا جن چوہوں کے جسموں میں داخل کیے گئے، ان کی دماغی سرگرمیاں انسانوں اور بندروں کے بیکٹیریا والے چوہوں سے واضح طور پر مختلف تھیں۔

جن چوہوں کے جسموں میں انسانوں یا بندروں کے بیکٹیریا داخل کیے گئے، ان میں وہ جینز زیادہ متحرک ہوگئے جو توانائی تیار کرنے کا کام کرتے ہین۔

اس عمل سے دماغ کو سیکھنے اور ماحول سے مطابقت پیدا کرنے میں مدد ملی۔

البتہ چوہوں کے تیسرے گروپ میں یہ جینز زیادہ متحرک نہیں ہوئے۔

محققین نے بتایا کہ ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ انسانوں یا بندروں کے بیکٹیریا والے چوہوں کی دماغی سرگرمیاں لگ بھگ ویسی ہی تھیں جو انسانوں یا بندروں میں دیکھنے میں آتی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ چھوٹے جانور کے بیکٹیریا والے چوہوں کی جینیاتی سرگرمیاں آٹزم اور ایسے ہی دیگر دماغی امراض سے منسلک کی جاسکتی ہیں۔

اس سے قبل بھی تحقیقی رپورٹس میں معدے میں موجود بیکٹیریا اور آٹزم یا ذہانت میں کمی کا باعث بننے والے دماغی امراض میں تعلق دریافت کیا گیا، مگر اس حوالے سے شواہد محدود تھے۔

محققین کے مطابق اس تحقیق سے ایسے مزید شواہد سامنے آئے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ معدے میں موجود بیکٹیریا آٹزم یا دیگر دماغی امراض میں کردار ادا کرتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئے۔

ہمیں فالو کریں: 

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel

اس سے قبل جنوری 2025 میں آئرلینڈ کی یونیورسٹی کالج کارک کی تحقیق میں بتایا گیا کہ معدے اور دماغ کے درمیان تعلق موجود ہے جو ڈپریشن اور انزائٹی جیسے امراض کا خطرہ کم کرتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ہماری آنتوں میں موجود کھربوں بیکٹیریا ہماری دماغی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ انسانی آنتوں میں موجود کھربوں بیکٹیریا، فنگس اور دیگر ننھے جاندار نہ صرف ہمارے ہاضمے اور مدافعتی نظام کے لیے اہم ہیں بلکہ یہ ہمارے دماغی صحت اور سوچنے کے انداز پر بھی اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔

تحقیق میں شامل محقق جان کرائن نے بتایا کہ انسانی جسم میں موجود یہ ننھے جاندار غذائی اجزا کو جذب کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بیکٹیریا یا دیگر جاندار دماغی صحت اور رویوں پر بھی نمایاں اثرات مرتب کرتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ بیکٹیریا دماغی امراض جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور schizophrenia کے علاج میں بھی معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

محققین کے مطابق فائبر سے بھرپور غذا، پروبائیوٹیکس کے زیادہ استعمال اور اچھی نیند ہمارے جسم کے اندر صحت کے لیے مفید بیکٹیریا اور دیگر جانداروں کی تعداد میں توازن برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرنے والے عناصر ہیں۔

ٹیگس