فرانس کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان
-
فرانس کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان
فرانس نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ بہت سخت اور بے رحمانہ ہوگی
فرانس کے وزیر اعظم مانوئل والس نے بتایا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف انتہائی سخت اور بے رحمانہ جنگ کا بل تیار کرلیا گیا ہے جو پیر کو منظوری کے لئے پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ پیرس کے دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہر فرد کے خلاف کارروائی ہوگی اور کسی بھی فرد کو بخشا نہیں جائے گا۔ انھوں نے اسی کے ساتھ اعلان کیا کہ فرانس میں ہنگامی حالت فی الحال جاری رہے گی۔
یاد رہے کہ حکومت فرانس کی سرکاری رپورٹ کے مطابق جمعے کی رات پیرس میں انجام پانے والے دہشت گردانہ حملوں میں ایک سو انتیس افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ غیر سرکاری رپورٹوں میں مرنے والوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے ایک سو اسی تک بتائی گئی ہے۔
پیرس دہشت گردانہ حملوں کی وسعت بتاتی ہے کہ یہ حملے بہت ہی سوچے سمجھے انداز میں اور مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ کئے گئے اور ممکنہ طور پر اس کی منصوبہ بندی پر کافی وقت لگایا گیا ہے لیکن اس پورے عرصے میں فرانس اور دیگر مغربی ملکوں کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو اس کی بھنک بھی نہ لگ سکی ،اس لحاظ سے پیرس دہشت گردانہ حملوں کو مغربی دنیا کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی ناکامی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
پیرس میں جمعے کی رات یہ حملے ایسی حالت میں ہوئے کہ تقریبا دس ماہ قبل جنوری میں چارلی ایبڈو نامی جریدے اور ایک سپر مارکٹ پر حملے کے بعد فرانس میں حفاظتی انتظامات بڑھانے کے ساتھ ہی سیکورٹی اداروں کو چوکس رہنے کے احکامات دیئے جا چکے تھے۔
امریکا کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ایک سابق عہدیدار پال پلر نے کہا ہے کہ اگر چہ حالیہ حملوں کے بعد پورے فرانس میں ایمرجنسی لگادی گئی ہے اور پورا ملک سیکورٹی اسٹیٹ میں تبدیل ہوگیا ہے لیکن اس بات کی ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ دہشت گرد گروہ کوئی کارروائی انجام نہیں دے سکیں گے۔
انھوں نے کہا کہ فرانس میں سیکورٹی کے جو اقدامات کئے گئے ہیں ، ان کی توقع ہر اس ملک سے رکھی جاتی ہے جہاں اس قسم کے دہشت گردانہ حملے ہوں لیکن دہشت گردوں نے بہت بڑی کارروائی کی ہے اور اس کے اثرات اس قسم کے اقدامات سے زائل نہیں ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ فرانس میں ہنگامی صورتحال جاری رہے تب بھی دہشت گردوں اور ان کے مستقبل کے دہشت گردانہ منصوبوں کا پتہ لگا لینا آسان نہیں ہے۔
سی آئی اے کے سابق عہدیدار پال پلر نے کہا کہ بہت ممکن ہے کہ یہ حملے شام میں داعش کے خلاف آپریشن میں فرانس کی شمولیت کے جواب میں کئے گئے ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ فرانس میں کچھ لوگ یہ مطالبہ کریں کہ داعش کے خلاف جنگ میں پیرس اپنی مداخلت کم کردے لیکن اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ داعش کے خلاف فرانس کا ردعمل زیادہ سخت ہوگا۔
دوسری طرف امریکی انیٹلیجنس کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتا یا گیا ہے کہ پیرس میں ایک دہشت گرد کی لاش کے پاس جو شام کا پاسپورٹ ملا ہے اس کے جعلی ہونے کا امکان زیادہ ہے۔ امریکا کے اس انٹیلیجنس افسر نے سی بی ایس ٹی وی سے انٹرویو میں کہا ہے کہ دہشت گرد کی لاش کے پاس جو پاسپورٹ ملا ہے اس پر درج نمبر اس سے مختلف ہے جس قسم کے نمبر عام طور پر شام کے قانونی پاسپورٹ پر ہوتے ہیں ۔
یاد رہے کہ فرانس کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ پیرس حملوں میں مارے جانے والے ایک دہشت گرد کے پاس سے شام کا پاسپورٹ ملا ہے۔ فرانسیسی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں ملوث دہشت گردوں کے پاس فرانس ، مصر اور شام کے پاسپورٹ تھے ۔ یونان کے سرکاری ذرائع نے بھی اعلان کیا ہے کہ پیرس میں ایک دہشت گرد کی لاش کے پاس سے جو پاسپورٹ ملا ہے وہ ایک مہاجر کا ہے جو اکتوبر میں سمندر کے راستے یونان پہنچا تھا-