Jul ۱۵, ۲۰۱۶ ۱۹:۴۰ Asia/Tehran
  • امریکی مسلمانوں کے خلاف نیوٹ گینگریچ کی زہر افشانی

امریکی ایوان نمائندگان کے سابق اسپیکر اور انتہا پسند سیاستداں نیوٹ گینگریچ نے کہا ہے کہ ان مسلمانوں کو امریکا سے نکال دیا جانا چاہئے جو اسلامی احکامات کی پابندی کرتے ہیں۔

امریکی ایوان نمائند‏گان کے سابق اسپیکر نیوٹ گینگریچ نے فاکس نیوز ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا میں مقیم مسلمانوں کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے اور جو بھی مسلمان اسلامی احکامات کی پابندی کرتا ہو اس کو امریکا سے نکال دیا جائے- امریکا کے مذکورہ انتہاپسند سیاستداں نے دعوی کیا کہ اسلامی قوانین مغربی تہذیب سے متصادم ہیں اور ہمیں اس بات پر خوشی ہو گی کہ بقول ان کے ایسے ماڈرن مسلمان کو امریکا میں جگہ دی جائے جو اسلامی احکامات کی پابندی نہ کرتا ہو- انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مسلمانوں کے ذریعے اسلامی احکامات کی پابندی کا پتہ لگانے کے لئے مسجدوں کی نگرانی ضروری ہے-

امریکی ایوان نمائندگان کےسابق اسپیکر نے مسلمانوں کی توہین کرتے ہوئے کہا کہ ضروری نہیں ہے کہ ہر اسلام پسند برا ہو لیکن وہ امن کا بھی حامی نہیں ہوتا- اس سے پہلےریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی گذشتہ برس دسمبر میں اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکا میں مسلمانوں کا داخلہ بند کر دیا جانا چـاہئے- ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں دعوی کیا تھا کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد امریکیوں سے نفرت کرتی ہے اس لئے مسلمانوں کو امریکا سے دور رہنا چاہئے- ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی-

مسلمانوں کے خلاف امریکی سیاستدانوں کے یہ بیانات ایک ایسے وقت سامنے آ رہے ہیں جب امریکا کی حمایت سے ہی اسرائیل، سرزمین فلسطین میں فلسطینی مسلمانوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کر رہا ہے اور دنیا کے متعدد مسلم ممالک میں لاکھوں مسلمان عوام امریکا کی جارحیت کا نشانہ بن کر جاں بحق ہو چکے ہیں۔

 

 

ٹیگس