Mar ۱۶, ۲۰۱۷ ۰۹:۰۰ Asia/Tehran
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک اور جھٹکا

امریکی ریاست ہوائی کی وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سفری پابندیوں سے متعلق نئے حکم نامے کومعطل کردیا ہے۔

امریکی ریاست ہوائی نے 6 مسلم ملکوں کے شہریوں پرسفری پابندیوں کے نئے حکم نامے کو بھی معطل کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا حکم نامہ 6 مارچ کو جاری کیا تھا، جس میں پرانے حکم نامے کے برخلاف عراق کے شہریوں پر سے سفری پابندیوں کو ہٹا لیا گیا تھا۔ نئے حکم نامے میں امریکا کے مستقل رہائشی (گرین کارڈ ہولڈرز) اور پہلے سے قانونی ویزا رکھنے والوں سے بھی سفری پابندیاں ہٹائی گئی تھیں۔ نئے ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق شام، ایران، لیبیا، صومالیہ، یمن اور سوڈان سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر 90 دن کی پابندی برقرار رہے گی اور انہیں اس عرصے کے دوران امریکی ویزے جاری نہیں کیے جائیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے حکم نامے کو امریکی ریاست ہوائی نے 9 مارچ کو ہونولولو کی وفاقی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ ریاست کی جانب سے دائر کی جانے والے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سفری پابندیوں سے متعلق نئے حکم نامے سے ریاست کی مسلم آبادی، سیاحت اور غیر ملکی طلبا کو نقصان پہنچے گا۔ ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے عدالت کے فیصلے پر کہا ہے کہ سفری پابندی کے خلاف فیصلہ دے کر عدالت نے اختیار سے تجاوز کیا ہے۔عدالت کے فیصلے سے کمزور امریکا کا تصور جائے گا اور سفری پابندی کے عدالتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کروں گا۔

خیال رہے کہ ریاست ہوائی کے علاوہ بھی ریاست میری لینڈ اور ریاست واشنگٹن نے ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے حکم نامے کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے۔ دیگر ریاستوں کی جانب سے دائر درخواستوں پر کسی وقت بھی عدالتوں کا فیصلہ سامنے آسکتا ہے۔ اس سے پہلے جنوری 2017 کے آخری ہفتے میں جاری کیے گئے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کو بھی ریاست واشنگٹن کی درخواست پر سان فرانسسکو کی عدالت نے معطل کیا تھا۔

ٹیگس