Mar ۲۶, ۲۰۱۷ ۱۲:۲۴ Asia/Tehran
  • امریکا اور برطانیہ کی جانب سےمسلم ممالک کے مسافروں پر پابندیوں پرعمل در آمد شروع

مسلم ممالک کے مسافروں پر پروازوں میں لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس اور ڈی وی ڈی پلئیرز لانے پرعائد پابندی پرعمل درآمد شروع ہوگیا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چند روز قبل امریکا نے 8 اور برطانیہ نے 6 مسلم ممالک کے مسافروں پر اپنے ملکوں میں موبائل کے علاوہ کسی اور الیکٹرانک ڈیوائس لانے پر پابندی عائد کی تھی جس پر ایئرلائنز نے باقاعدہ طور پر عملدرآمد شروع کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون سے زیادہ بڑے الیکٹرانک آلات دوران سفر اپنے ساتھ نہیں رکھ سکیں گے اور ایئرپورٹ پر سامان کی جانچ پڑتال کے بعد ہی مسافروں کو کلئیرنس دی جائے گی۔ برطانیہ کی جانب سے عائد کردہ پابندی کے مطابق مسافر ایسا کوئی برقی آلہ جس کی لمبائی 6 اعشاریہ 6 انچ اور چوڑائی 3 اعشاریہ 7 انچ سے زیادہ ہو تو وہ اپنے ساتھ رکھنے کا مجاز نہیں ہوگا جسے مد نظر رکھتے ہوئے اتحاد ایئرویز نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹس، آئی پیڈ، گیمنگ ڈیوائسز، کیمرا، ای ریڈر اور یہاں تک کہ اضافی بیٹری بھی سامان میں رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

متحدہ عرب امارت کی ایمرٹس ایئرلائن کا کہنا ہے کہ مسافر جہاز میں سوار ہونے سے پہلے تک الیکٹرانکس آلات استعمال کرسکیں گے لیکن ایسے مسافر جنھیں اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے فلائٹ تبدیل کرنی پڑتی ہے وہ اپنے سفر کے دوسرے حصے میں الیکٹرانک آلات تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے۔ امریکا نے جن مسلم ممالک کے مسافروں پر پابندی عائد کی ہے ان میں سعودی عرب، مصر، ترکی، کویت، قطر،مراکش، متحدہ عرب امارات اور اردن شامل ہیں جب کہ برطانیہ کی جانب سے عائد کردہ پابندی کی زد میں آنے والے ممالک میں سعودی عرب، ترکی، لبنان، اردن، مصر اور تیونس شامل ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ کے عوام نےاس قسم کی پابندیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس پر سخت احتجاج کیا ہے۔

ٹیگس