Nov ۰۵, ۲۰۱۷ ۰۸:۳۷ Asia/Tehran
  • لائن آف کنٹرول پرسفری اور تجارتی سرگرمیاں بحال

کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر 4 ماہ سے بند سفر اور تجارت کو دوبارہ کھولنے پر دونوں ممالک کے حکام رضا مند ہوگئے۔

سفراور تجارت کا باقاعدہ آغاز آئندہ ہفتے سے تیتری نوٹ - چکندا باغ کے مقام سے شروع ہوگا، تاجروں کی جانب سے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا۔

7 جولائی 2017 کو تیتری نوٹ کے مقام سے سفر اور تجارت کا عمل اس وقت بند کیا گیا تھا جب لائن آف کنٹرول پر پونچھ سیکٹر میں شدید شیلنگ کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

شیلنگ کے باعث دونوں اطراف بہت سے مسافر لائن آف کنٹرول پر پھنس گئے تھے، جنہیں 7 اگست کو مظفرآباد ڈویژن میں چکوٹھی-اُڑی کراسنگ پوائنٹ سے واپس بھیجا گیا تھا۔

تیتری نوٹ سیکٹر سے سفر اور تجارت کی بحالی کے لیے 25 اکتوبر کو سول سوسائٹی کی جانب سے تحصیل ہیڈکوارٹر ہجیرہ میں ریلی بھی نکالی گئی تھی۔

اس حوالے سے ایک اجلاس جمعہ کو منعقد ہوا جس میں دونوں جانب کے حکام شریک ہوئے، پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ہونے والے اجلاس میں ٹاٹا کے ڈائریکٹرشاہد احمد، تیتری نوٹ کے ٹریڈ فسلیٹیشن آفیسر (ٹی ایف او) سردار محمد نعیم اور اسسٹنٹ ٹی ایف او محمد ارشاد جبکہ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر سے چکندا باغ ٹرمنل کے نگراں محمد تنویر، ٹی ایف او پرتپال سنگھ، ڈی ایس پی سیکیورٹی طفیل میر اور دیگر دو افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں اس بات پراتفاق ہوا کہ منگل سے جمعرات کے دوران روزانہ کی بنیاد پر سامان سے بھرے 30، 30 ٹرک ایل او سی کے دونوں اطراف جائیں گے جبکہ یہ سلسلہ ہر ہفتے برقرار رہے گا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایل او سی کے دونوں اطراف سفر کو تیتری نوٹ کے مقام سے پیر 6 نومبر سے شروع کیا جائے گا۔

ٹیگس