Oct ۰۴, ۲۰۱۸ ۱۸:۵۵ Asia/Tehran
  • یورپی پارلیمینٹ کا سعودی اتحاد کو  اسلحے کی فروخت بند کرنے کا مطالبہ

یورپی پارلیمنت کے بیشتر ارکان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اسلحے کی فراہمی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کے وائس پرزیڈینٹ فیبو ماسومو کسٹالڈو نے کہا ہے کہ ان کا اور پارلیمنت کے بیشتر ارکان کا خیال ہے کہ ایسا قانون بنایا جائے جس کے ذریعے تمام یورپی ملکوں کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اسلحے کی فروخت سے روک دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ یورپی پارلیمینٹ اس سے پہلے بھی سعودی عرب اور اسحلہ کی فراہمی روکنے کے دو بل پاس کر چکی ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ یورپی یونین اس بارے میں جامع اور ہمہ گیر موقف اپنائے۔
اس سے قبل یورپی پارلیمینٹ نے یونین کی خارجہ پالیسی کی انچارج فیڈریکا موگرینی نے سے کہا تھا کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی پامالی کے تناظر میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اسلحہ کی سپلائی روکنے کا بل پیش کرے۔
یورپی پارلیمینٹ کے مطالبے کے باوجود برطانیہ، فرانس، اٹلی اور جرمنی جیسے یورپی ممالک سعودی عرب کو مسلسل اسلحہ فراہم کر رہے ہیں۔
حکومت جرمنی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق برلن حکومت نے مارچ دو ہزار اٹھارہ سے اب تک دو سو پچانوے ملین ڈالر کا اسلحہ سعودی عرب کو فروخت کیا ہے۔
جزیرہ سارڈینا میں جرمن کمپنی کے اشتراک سے بم بنانے والی اطالوی کمپنی بھی سعودی عرب کو اسلحے کی فراہمی میں سرفہرست ہے۔
اس سے پہلے ہیومن رائٹس واچ نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سعودی عرب کو اسلحے کی فراہمی کا سلسلہ فوری طور پر بند کر دیں اور یمن میں سعودی حکومت کے جنگی جرائم میں مشارکت سے گریز کریں۔
ہیومن رائٹس واچ کے جاری کردہ ایک بیان میں نو اگست کو یمن کے صوبے صعدہ کے شہر ضحیان میں یمن کے اسکولی بچوں کی بس پر حملے کو کھلا جنگی جرم قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کو اسلحہ فراہم کرنے والے ملکوں کو اس جرم میں معاونت کی بابت خبردار کیا گیا ہے۔
سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات، امریکہ اور چند دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن کو وحشیانہ جارحیت کا نشانہ اور مشرق وسطی کے اس غریب اسلامی ملک کا زمینی، سمندری، اور فضائی محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔
سعودی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی جنگ پسندی کے نتیجے میں اب تک چودہ ہزار سے زائد یمنی شہید اور دسیوں ہزار زخمی ہوچکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
آل سعودحکومت کی جارحیت اور محاصرے کی وجہ سے یمن میں اشیائے خودر و نوش، ایندھن اور دواؤں کی بھی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث عام شہریوں کو طرح طرح کی بیماریوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 

ٹیگس