مسئلہ کشمیر کا حل فورسز کی واپسی
پاکستان کی وفاقی وزیر انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے دونوں جانب سے فورسز کو واپس بھیجنا ہوگا اور کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دینا ہوگا۔
کشمیر کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں، ہندوستان کشمیر کے معاملے کو اقوام متحدہ میں لے کرگیا تھا، ہم نے کشمیر پر کبھی لانگ ٹرم پالیسی نہیں بنائی، کچھ لوگ ہماری کشمیر پالیسی کو خراب کر رہے تھے۔
بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو مستقل حل کرنے کا وقت قریب آگیا ہے، ہندوستان اور کشمیری قیادت کے درمیان مذاکرات ہونے چاہئیں جبکہ پاکستان اور ہندوستان ہمسائے ہیں، دو طرفہ مذاکرات کی ضرورت ہے، مذاکرات اور جنگ اکھٹے نہیں ہوسکتے لہذا مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے دونوں جانب سے فورسز کو واپس بھیجنا ہوگا۔
دوسری جانب ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایک بار پھر ہندوستان پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان سے مذاکرات کرے ۔
سری نگر میں ہندوستانی وزیر داخلہ راج ناتھ سے ملاقات میں محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے پاکستان سے اچھے تعلقات کشمیر کی دگرگوں صورتحال پر مثبت اثر ڈالیں گےاور کشمیر کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔