Mar ۲۷, ۲۰۲۰ ۲۲:۱۶ Asia/Tehran
  • کورونا نے امریکہ کو پہلے نمبر پر پہونچایا

کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد کے لحاظ سے امریکا کے پہلے نمبر آ جانے کے بعد چین کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا لب و لہجہ بدل گیا اور انھوں نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف مہم میں امریکا اور چین کے درمیان بہت قریبی تعاون پایا جاتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کورونا وائرس کے خلاف مہم میں قریبی تعاون کی بات ایسے عالم میں کہی ہے کہ کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد کے لحاظ سے امریکا دنیا میں سر فہرست آ گیا ہے اور اس سے پہلے تک وہ کورونا وائرس کو چائنا وائرس یا ووہان وائرس کا نام دیئے جانے پر مصر تھے۔
لیکن جب امریکا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہوگئی تو ان کا لب و لہجہ یکسر بدل گیا ۔ چنانچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں اعلان کیا ہے کہ انھوں نے کورونا وائرس کے بارے میں اپنے چینی ہم منصب سے ٹیلیفون پر تبادلہ خیال کیا ہے اور ہمارے درمیان کورونا کے سلسلہ میں قریبی تعاون پایا جاتا ہے۔ 
امریکی صدر ٹرمپ نے ٹوئٹ کیا ہے کہ ٹیلیفون پر چینی ہم منصب شی جن پھنگ سے ہماری بہت اچھی بات ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے اس ٹیلیفونی گفتگو میں کورونا وائرس کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے جس نے دنیا کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اب تک اس سے کافی نقصان پہنچ چکا ہے ۔ 
روسی خبر رساں ایجنسی اسپوٹنک نے بھی امریکا اور چینی صدور کے درمیان کورونا وائرس کے بارے میں ٹیلیفونی گفتگو کی خبر دی ہے ۔ اسپوٹنک نیوز ایجنسی نے چینی صدر کے حوالے سے لکھا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے بارے میں چین اور امریکا کے درمیان تعاون ہی بہترین راستہ ہے ۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ گزشتہ دنوں کورونا وائرس کے تعلق سے امریکا اور چین کے درمیان لفظی جنگ نے شدت اختیار کرلی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مائک پمپؤ کورونا وائرس کو چائنا وائرس یا ووہان وائرس کہنے پر مصر تھے جس پر بیجنگ حکومت نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا ۔ 
حتی امریکا نے گروپ سیون کے سربراہی اجلاس میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے انجام پانے والے اجلاس میں بھی کورونا وائرس کو چائنا وائرس اور ووہان وائرس کا نام دینے پر اصرار کیا تھا ۔ امریکا کا اصرار تھا کہ اجلاس کے اختتامی بیان میں کورونا وائرس کو چائنا وائرس یا ووہان وائرس کا نام دیا جائے ۔ امریکا کی اسی شر انگیزی کی وجہ سے گروپ سیون کا سربراہی اجلاس کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ہی ختم ہو گیا ۔ 
یاد رہے کہ کووڈ نائنٹین جو کورونا وائرس کے نام سے مشہور ہے ، پہلی بار دسمبر دو ہزار انیس کے اواخر میں چین کے شہر ووہان میں ظاہر ہوا لیکن اس وقت کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی سب سے زیادہ تعداد امریکا میں ہے ۔
امریکا میں کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد پچاسی ہزار چھے سو بارہ ریکارڈ کی گئی جس کے بعد امریکا کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد کے لحاظ سے اٹلی کو پیچھے چھوڑ کے پہلے نمبر پر پہنچ گیا۔ امریکا میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد بھی ایک ہزار تین سو ایک بتائی گئی ہے۔ 
رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ یورپ میں بھی کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ فرانس پریس کے مطابق یورپ میں کورونا وائرس میں مبتلا ڈھائی لاکھ سے زائد افراد میں سے تقریبا آدھے کا تعلق اٹلی اور اسپین سے ہے۔ 
کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد کے لحاظ سے امریکا کے بعد اٹلی دوسرے نمبر پر ہے ۔
اٹلی کی حکومت نے جمعرات کی شام کو اس ملک میں کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد اسّی ہزار پانچ سو اناسی بتائی تھی ۔ اطالوی حکومت کے مطابق اس ملک میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد جمعرات کی شام تک آٹھ ہزار دو سو پندرہ تک پہنچ گئی تھی ۔
اسپین میں بھی کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد ستاون ہزار آٹھ سو کے قریب بتائی گئی ہے۔ 
اسی کے ساتھ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں بھی کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ مرر ویب سائٹ کے مطابق برطانیہ کے اسپتالی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ اس ملک میں ہر تیرہ منٹ میں ایک فرد کورونا وائرس کی وجہ سے موت سے ہمکنار ہو رہا ہے۔ 
نیوز ایجنسی فرانس پریس کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والوں کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جو خبروں میں بتائی جاتی ہے کیونکہ بہت سے ممالک اب بھی کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی صحیح تعداد بتانے سے گریز کر رہے ہیں اور صرف ان لوگوں کی ہی تعداد بتاتے ہیں جن کی حالت زیادہ خراب ہوتی ہے۔
دنیا کے بیشتر ممالک میں پھیل چکے کورونا وائرس سے تقربیا چوبیس ہزار افراد کی موت ہو چکی ہے جبکہ تقریبا پانچ لاکھ چھبیس ہزار پانچ سو چوالیس کے قریب لوگ اس وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

ٹیگس

کمنٹس