Apr ۲۸, ۲۰۲۰ ۱۸:۱۸ Asia/Tehran
  • امریکی صدر کی غیر ذمہ دارانہ حرکتیں انتہا کو پہونچیں

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ عوام کی جانب سے جراثیم کش دواؤں کا استعمال کئے جانے کے وہ ذمہ دار نہیں ہیں۔

سی ان ان کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے منگل کے روز کہا ہے کہ کورونا وائرس کے معالجے کے لئے ان کی کیڑے مار دواؤں کی تجویز کے بعد عوام کی جانب سے جراثیم کش دواؤں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے وہ ذمہ دار نہیں ہیں۔

ٹرمپ نے یہ بیان ایسی حالت میں دیا ہے کہ ابھی حال ہی میں انھوں نے کووڈ 19 بیماری کے معالجے کے لئے کیڑے مار دواؤں کے استعمال کی تجویز دی تھی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے عوام کی جانب سے جراثیم کش دواؤں کے استعمال کی وجہ کے بارے میں لاعلمی کا بھی اظہار کیا۔

حالانکہ امریکی صدر ٹرمپ نے جمعرات کے روز کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے تعلق سے یہ تجویز پیش کی تھی کہ اس وائرس میں مبتلا مریض کیڑے مار دواؤں کا استعمال کر کے اپنا معالجہ کر سکتے ہیں، جس کے بعد طبی ماہرین نے ٹرمپ کی تجویز پر گہری تشویش ظاہر  کرتے ہوئے امریکی عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ صدر ٹرمپ کی باتوں پر کوئی دھیان نہ دیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اسی طرح پیر کے روز ایک بیان میں کورونا وائرس کے مقابلے میں اپنی حکومت کے اقدامات کو کامیاب قرار دیتے ہو‏ئے کہا ہے کہ چین کو کورونا وائرس پھیلانے کی بنا پر جواب دینا ہوگا اور ہم اس سلسلے میں پوری گہرائی کے ساتھ تحقیقات کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے کووڈ 19 کے نتیجے میں موت سے ہمکنار ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں بھی کہا کہ عوام کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے مگر پہلی پیش گوئی پر اگر توجہ دی جائے تو بائیس لاکھ افراد کے مرنے کی امید کی گئی تھی لیکن اب یہ تعداد 60 سے 70 ہزار تک ہی پہنچ سکتی ہے اور یہ تعداد اس سے کہیں کم ہے کہ جس کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

امریکی سینیٹ کے اقلیتی دھڑے کے رہنما چک شومر نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ کانگریس کی کاروائی کے آغاز کے بعد اسے کورونا ٹیسٹ کی کٹ کی قلّت اور صدر ٹرمپ کی کارکردگی کا سب سے پہلے جائزہ لینا چاہئے۔

انھوں نے کہا ہے کہ امریکی سینیٹ کو اس بات کا بغور جائزہ لینا چاہئے کہ کیوں امریکہ کے پاس کووڈ 19 کی ٹیسٹ کٹ کی کمی رہی ہے؟۔

امریکہ میں کوویڈ 19 کی ٹیسٹ کٹ کی قلّت کی بنا پر اس ملک میں صرف ان ہی لوگوں کا ٹیست کیا جاتا رہا ہے کہ جن کو کھانسی کے ساتھ شدید بخار کی شکایت تھی، جبکہ بہت سے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر یہ وائرس ان افراد سے پھیلا ہے جن میں کوئی علامت نہیں پائی گئی ہے اور وہ اس وائرس میں مبتلا ہونے کی بنا پر نادانستہ طور پر خاموشی سے دوسروں کو کورونا وائرس منتقل کرتے رہے ہیں۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں اب تک دس لاکھ دس ہزار سے زائد افراد کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کا پتہ لگایا جا چکا ہے جبکہ 56 ہزار 498 سے زائد افراد کورونا وائرس کی بیماری کے نتیجے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

ٹیگس