May ۳۰, ۲۰۲۱ ۱۲:۰۷ Asia/Tehran
  •  مسافرطیارے کی جبری لینڈنگ پر پیوٹن کا ردعمل

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنے بیلاروسی ہم منصب الیگزینڈر لوکاشینکوف کی حمایت کردی۔

بیلاروس کے دارالحکومت مینسک میں مسافر بردار طیارے کی زبردستی لینڈنگ کے بعد مغربی ممالک کے ساتھ بڑھتے تنازع میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنے بیلاروسی ہم منصب الیگزینڈر لوکاشینکوف کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

 سوچی میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے دوران پیوٹن نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 2013ء میں جب امریکہ کی جانب سے ایڈورڈ اسنوڈن کی تلاش میں بولیویا کے صدر کا طیارہ ویانا میں اتارا گیا تب تو یورپی یونین کی جانب سے تنقید سامنے نہیں آئی تھی۔

واضح رہے کہ بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکوف کو روس کی جانب سے بھرپور حمایت حاصل ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی ہوا بازی کی ایجنسی نے بیلاروس کے متنازع اقدام کی تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

 مونٹریال میں قائم انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کونسل کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی سی اے او کے رکن ملک کی جانب سے بین الاقوامی ہوابازی کے قانون کی خلاف ورزی کی تحقیقات کی جائے گی۔

 

 

ٹیگس