Jul ۰۷, ۲۰۲۲ ۱۸:۱۹ Asia/Tehran
  • برطانوی وزیراعظم مستعفی

برطانوی وزیر اعظم بوریس جانسن نے کابینہ کے وزیروں کی بغاوت کے بعد اپنے عہدے سے استعفا دے دیا ہے

برطانوی کابینہ کے ستاون ممبران کے استعفوں پر آئینی بحران کے سنگین ہونےاور سیاسی دباؤ میں اضافے کے بعد وزیراعظم بورس جانسن نے استعفی دینے کا فیصلہ کر لیا اور یوں وہ مستعفی ہو گئے ۔ استعفے دینے کے بعد بوریس جانسن نے کہا کہ انہوں نے ملک کے مفاد میں یہ قدم اٹھایا ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جو نیا وزیراعظم بنے گا وہ اس کے ساتھ پورا تعاون کریں گے، انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کنزرویٹو پارٹی کا پارلیمانی دھڑا یہ چاہتاہے کہ وزارت عظمی کی کرسی پر اب کوئی نیا شخص بیٹھے تاہم انہوں نے کہا کہ جب تک نئے وزیراعظم کا انتخاب نہیں ہوجاتا وہ وزارت عظمی کے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔
کرس پنچر کوپارٹی کا ڈپٹی چیف وہپ لگانے کے بورس جانسن کے فیصلے کے خلاف ستاون وزرا اور مشیروں نے حال ہی میں استعفیٰ دیا تھا جس کے بعد اپنی ہی جماعت کے اراکین کی جانب سے بورس جانسن پر مستعفی ہونے کیلئے دباو خاصا بڑھ گیا تھا۔
پہلے تو بورس جانسن نے صورتحال کا مقابلہ کرتے ہوئے مستعفی ہونے سے انکار کیا تاہم بعد میں  صورت حال اپنے خلاف ہوتی دیکھ کر انہوں نے استعفی دینے کا فیصلہ کیا۔

واضح رہے کہ بورس جانسن کا مذکورہ اسکینڈل اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے کرس پنچر کی بطور پارٹی رکن تقرری کی جبکہ کرس پنچر پر پہلے ہی دو نوجوان لڑکوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا سنگین الزام تھا۔

ٹیگس