Aug ۰۶, ۲۰۲۲ ۱۴:۴۱ Asia/Tehran
  • کورونا امریکا نے پھیلایا ہے، روس

روس کی فوج کے ایک اعلی عہدیدار نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں امریکہ کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

روس کے کیمیاوی اور جراثیمی حملوں کے مقابلے میں دفاعی فورس کے کمانڈر ایگور کریلوف نے کہا ہے کہ سن دو ہزار نو سے یو ایس ایڈ اور امریکی بین الاقوامی ترقیاتی ادارے کے زیر انتظام پریڈکٹ یعنی پیش گوئی کے زیرعنوان ایک منصوبے پر سرمایہ کاری کی گئی جس میں کورونا وائرس کی نئے اقسام اور چمگادڑوں کے ذریعے انہیں پھیلانے کا مشن شامل تھا۔

کریلوف کا کہنا ہے کہ اسی وقت امریکی ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے رکن جیسن کرو نے امریکی شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ اپنے ڈی این اے کا نمونہ کسی بھی نجی کمپنی کے حوالے نہ کریں کیونکہ یہ کمپنیاں اسے تیسری پارٹیوں کو بیچ سکتی ہیں۔

کریلوف نے ایک اور اجلاس کی جانب اشارہ کیا جہاں کورونا وائرس کی ایک نامعلوم نوعیت کو پھیلانے کی بات کی جا رہی تھی۔ روس کے فوجی عہدیدار نے بتایا کہ موصولہ اطلاعات اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ کورونا وائرس سوور کے ذریعے انسانوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

ہسپانوی فلو بھی، جو کہ گذشتہ صدی کے ابتدائی برسوں میں پھیلا اوراس نے دسیوں لاکھ انسانوں کی جان لی، اسی طرح سے دنیا بھر میں پھیلا تھا۔

روسی فوج کی کیمیاوی اور جراثیمی حملوں کے مقابلے کی فورس کے کمانڈر نے مزید کہا کہ کووڈ- نائنٹین جس انداز سے پھیلا اور جس تیز رفتاری کے ساتھ پریڈکٹ منصوبے کو سن دو ہزار انیس میں روکا گیا، اس سے اس وائرس کی عالمگیریت میں امریکہ کے عمل دخل پرشکوک و شبہات میں اور بھی اضافہ ہوتا ہے۔

روس کے فوجی کمانڈر کریلوف کا یہ بیان ایسی حالت میں سامنے آیا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر زیادہ تر مغربی ممالک نے چین کو ذمہ دار ٹہراتے ہوئے ووہان کی وائرس لیب کو اس پورے عالمی مسئلے کا ذمہ دار ٹہرایا تھا ۔ اگرچہ اس بارے میں کہ کورونا وائرس کہاں سے پھیلا ہے، امریکہ کے انٹیلی جنس حلقوں کی نوے روزہ تحقیقات کا بھی کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا اس کے باوجود فائنل رپورٹ میں چین کو اصل ذمہ دار ٹہراتے ہوئے دعوی کیا گیا کہ بیجنگ اس بات کو چھپا رہا ہے کہ کووڈ- نائنٹین کہاں سے پھیلا ہے۔ جبکہ عالمی ادارہ صحت کے سائنسدانوں اور ماہرین نے بھی ووہان کے جراثیم کی تحقیقاتی لیب کے معائنے کے بعد، امریکی انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹ کو مسترد کردیا تھا۔

غور طلب بات یہ ہے کہ ریاست میری لینڈ میں واقع امریکی فوج کے وبائی امراض کے تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹ کو بھی سن دو ہزار انیس میں اچانک کچھ عرصے کے لئے بند کردیا گیا اور اعلان ہوا کہ اس انسٹی ٹیوٹ کے نکاسی سسٹم کی آلودگی ختم کرنے کے لئے یہ کام کیا گیا ہے۔

چین کے گلوبل ٹائمز اخبار نے مذکورہ دعوے کو مسترد کیا ہے۔ باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار نے بتایا کہ امریکہ کے قومی سلامتی کے ادارے نے گذشتہ جون کے مہینے میں اس سلسلے کی تحقیقات انجام دی تھیں جس کا نتیجہ بھی جاری ہوا۔

گلوبل ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ کورونا کے پھیلنے سے قبل یعنی سن دو ہزار انیس کے آخری چند مہینوں میں، امریکی فوج کے وبائی امراض کی تحقیقاتی لیب سے لیکج ہوئی تھی۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی اداروں نے قومی سلامتی کو لاحق خطرے کے بہانے، ان معلومات کی پردہ پوشی کی ہے۔

ٹیگس