روس آبنائے ہرمزکے معاملے میں مصالحت کے لیے تیار
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i457392-روس_آبنائے_ہرمزکے_معاملے_میں_مصالحت_کے_لیے_تیار
روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی کی غرض سے اس معاملے کے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مصالحت میں مدد کے لیے تیار ہے۔
(last modified 2026-10-08T16:51:23+00:00 )
Oct ۰۸, ۲۰۲۶ ۲۰:۲۱ Asia/Tehran
  • روس آبنائے ہرمزکے معاملے میں مصالحت کے لیے تیار

روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی کی غرض سے اس معاملے کے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مصالحت میں مدد کے لیے تیار ہے۔

سحرنیوز/دنیا:  روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے خلیج فارس کے تمام ساحلی ممالک کے ساتھ ماسکو کے "اعتماد پر مبنی" تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس، آبنائے ہرمز کے معاملے میں مفاہمت کے لیے حل تک پہنچنے میں سہولت کاری کے لیے تیار ہے۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو معمول پر لانے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی کے لیے فوری اقدامات کرنا بہت اہم ہے۔ انھوں نے کہا کہ روسی فیڈریشن بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر اور تمام متعلقہ فریقوں کے حقوق اور جائز مفادات کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے مفاہمت پر مبنی حل تک پہنچنے میں سہولت کاری کے لیے بدستور تیار ہے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے زور دے کر کہا کہ روس نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل (کی حکومت) کی مسلح اور بلاجواز جارحیت کے آغاز ہی سے دنیا کی سب سے زیادہ کمزور اقوام کی غذائی سلامتی پر ان اقدامات کے تباہ کن اثرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے یہ انتباہات اعداد و شمار اور مستند حقائق کے ساتھ پیش کیے تھے۔ زاخارووا نے واضح کیا: موجودہ بحران کی بنیادی وجوہات سے نمٹے بغیر حالات کو معمول پر لانا بعید نظر آتا ہے۔

ماریا زاخارووا نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی منڈی میں کیمیائی کھاد کی فراہمی کے لیے نقل و حمل کی ایک اہم شریان ہے اور ماہرین کے اندازوں کے مطابق ہر سال مجموعی کیمیائی کھاد کا تقریباً 30 فیصد اور ان کی تیاری کے لیے درکار خام مال کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ عالمی منڈیوں میں کھاد کی قلت اور اس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عالمی تجارتی تنظیم نے 2026 میں عالمی تجارت کی شرح نمو کے بارے میں اپنی پیش گوئی کو پہلے کے تخمینے 4.6 فیصد سے کم کرکے 1.9 فیصد کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس صورتحال کی بنیادی وجہ زرعی کیمیائی کھاد کے شعبے سمیت اشیائے صرف کی منڈیوں میں عدم استحکام ہے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ عالمی تجارتی تنظیم کے اعلان کے مطابق، مشرق وسطیٰ کا بحران دنیا کی غذائی سلامتی کے لیے خطرہ ہے کیونکہ کھاد کی قلت زرعی پیداوار کے پروڈکشن میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔

ہمیں فالو کریں:

Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok  whatsapp channel