• ایٹمی سمجھوتے سے متعلق بریسلز میں ظریف کا تبادلۂ خیال

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف برطانیہ، فرانس، جرمنی، اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی سے ایٹمی معاہدے کے بارے میں تبادلۂ خیال کے لئے بریسلز پہنچ گئے۔

محمد جواد ظریف ایسی حالت میں ایٹمی معاہدے کے بارے میں بات چیت کے لئے چند گھنٹوں کے دورے پر ماسکو گئے اور پھر وہاں سے وہ جمعرات کو بریسلز میں تین یورپی ملکوں اور یورپی یونین کی نمائندہ فیڈریکا موگرینی کے ساتھ مذاکرات کے لئے بریسلز پہنچے ہیں جبکہ جمعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر ایٹمی معاہدے کے بارے میں فیصلہ کرنے والے ہیں۔ ٹرمپ نے برسر اقتدار آنے کے وقت سے ہی، ایٹمی معاہدے سے ناراضگی کے باوجود ایٹمی پابندیوں کو معطل رکھنے کی مدت میں توسیع کی ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں، دوسری مرتبہ ایٹمی پابندیاں معطل رکھنے کی مدت میں توسیع کی ہے - حقیقت یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد واشنگٹن نے ایران کے خلاف سخت ترین دشمنانہ پالیسی اختیار کی ہے۔

البتہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایٹمی معاہدے کے تعلق سے تمام مسائل کا اصلی اور قانونی مرکز خود ڈونلڈ ٹرمپ نہیں ہیں بلکہ جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے ہے اور یہ ادارہ جنوری 2016 سے اب تک نو مرتبہ ایٹمی معاہدے پر ایران کے کاربند رہنے کی تائید و تصدیق کرچکا ہے۔ امریکہ کے داخلی قانون کے مطابق اس ملک کے صدر ایٹمی معاہدے کے بارے میں امریکی کانگریس کو رپورٹ دینے کے پابند ہیں۔ ٹرمپ کو چاہئے کہ وہ داخلی قانون اینارا INARA  کی بنیاد پر کہ جو ایران کے ایٹمی معاہدے کے بارے میں ہے، ہر نوے روز میں ایک بار ایٹمی معاہدے کے حوالے سے اپنی رپورٹ کانگریس کو پیش کریں۔ ایٹمی معاہدے کے بارے میں ٹرمپ کا تیسرا موقف کسی حد تک نامعلوم اور مبہم ہے ۔ بعض کا خیال ہے کہ ٹرمپ ایران کی ایٹمی پابندیوں کو معطل رکھنے کی مدت میں توسیع نہ کرنے کے ذریعے عملی طور پر ایٹمی معاہدے سے نکل جائیں گے اور یہ وہ آپشن ہے جس کی مخالفت عالمی سطح پر ہو رہی ہے اور ایٹمی معاہدے کے یورپی فریق بھی اس کے مخالف ہیں۔

اسی سلسلے میں ایران کی مجلس شورائے اسلامی کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ علاء الدین بروجردی نے بدھ کو ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے ممکنہ طور پر نکل جانے کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین اور جرمنی اور یورپی یونین نے ایٹمی معاہدے پر دستخط کئے ہیں اوروہ ایٹمی معاہدے میں امریکہ کی پیروی نہیں کریں گے۔

ایک اور آپشن جو ٹرمپ کے سامنے ہے یہ ہے کہ ایٹمی معاہدے پر ایران کے پابند ہونے پر مبنی جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی کی نو رپورٹوں کے پیش نظر، ایران کی ایٹمی پابندیوں کو معطل رکھنے کی مدت میں وہ توسیع کردیں اور ایٹمی معاہدے سے باہر نہ نکلیں لیکن ماضی کی طرح ایٹمی معاہدے کے علاوہ دیگر مسائل میں ایران کے خلاف اپنا دباؤ بڑھا دیں۔

ایسوشی ایٹید پریس نے بدھ کے روز امریکہ کے باخبر ذرائع اور وائٹ ہاؤس کے قریبی افراد کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ توقع کی جا رہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جمعے کو ایران کی اقتصادی پابندیوں کو معطل رکھنے کی مدت میں ایک بار پھر توسیع کردیں گے۔ اس کے باوجود میزائل کا مسئلہ اور مغربی ایشیاء کے علاقے میں ایران کے کردار کا مسئلہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے ایک دستاویز ہے تاکہ ماضی سے زیادہ ایٹمی معاہدے کو کمزور کریں اور ایران کے لئے اس کے فوائد کو کم کردیں۔ 

اسی دائرے میں بین الاقوامی مسائل کے ماہر صباح زنگنہ کا خیال ہے کہ امریکہ کوشش کرے گا کہ ایٹمی معاہدے کے متن میں تبدیلی لائے اور دیگر روشوں جیسے پابندیوں میں اضافہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف دباؤ شدید کردے۔ اس درمیان بعض یورپی ممالک جیسے فرانس اور برطانیہ بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمنوا ہوگئےہیں۔ 

ایٹمی معاہدے کے بارے میں امریکی صدر کی جانب سے مختلف سناریو کے پیش نظر وہ چیز جو اہم ہے اور یورپی ملکوں سے اس کی توقع رہی ہے یہ ہے کہ یہ یونین مستقل طور پر فیصلہ کرے کہ جو امریکی ارادے سے خارج ہو۔ یورپی ملکوں کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی پابندی، اور ٹرمپ کے منصوبوں کی حمایت نہ کرنے سے امریکہ دنیا میں الگ تھلگ پڑجائے گا اور اس سے دنیا پر ثابت ہوجائے گا کہ امریکہ بین الاقوامی سطح پر قابل اعتماد شریک نہیں ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی بریسلز میں مذاکرات کے آغاز سے پہلے کہا ہے کہ عالمی برادری نے مکمل طور پر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ امریکی پالیسیوں کی حمایت نہیں کرتی اور درحقیقت اس ملک کی پالیسیوں کو تباہ کن سمجھتی ہے۔

Jan ۱۱, ۲۰۱۸ ۱۶:۳۶ Asia/Tehran
کمنٹس