Feb ۲۷, ۲۰۱۹ ۱۵:۰۵ Asia/Tehran
  • رہبر انقلاب اسلامی سے بشار اسد کی ملاقات ، سازشوں کے مقابلے میں ہوشیار رہنے کی ضرورت پر تاکید

اسلامی جمہوریہ ایران، شامی حکومت اور قوم کی مدد و حمایت کو مزاحمتی فرنٹ کی مدد و حمایت سمجھتا اور دل کی گہرائیوں سے اس پر فخر کرتا ہے-

یہ بات رہبر انقلاب اسلامی  حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات میں فرمائی- آپ نے فرمایا کہ شام کی کامیابی اور امریکہ اور علاقائی سامراجیوں کی شکست کی وجہ، اس ملک کے صدر اور قوم کی مزاحمت اور ان کا عزم مستحکم تھا- رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران شام کے بحران کے شروع ہونے کے وقت سے ہی دل و جان کے ساتھ شام کی حکومت اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے فرمایا کہ شام نے اپنے عوام کی مزاحمت و استقامت کے ساتھ امریکہ، یورپ اور ان کے اتحادیوں کو شکست دی۔

بلا شبہ جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ شام کی حکومت اور عوام نے امریکہ ، یورپ اور علاقے میں ان کے اتحادیوں کے ایک بڑے محاذ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کامیابی کے ساتھ اس مرحلے کو سر کیا- لیکن اس کامیابی کی بقا اور دوام اس میں ہے کہ علاقے کو درپیش حالات کے پیش نظر، دشمن کی سازشوں اور ان کے مذموم عزائم سے غفلت نہ برتی جائے اور مکمل ہوشیاری کے ساتھ ، ان کے اثر و رسوخ کے تمام راستوں کو مسدود کیا جائے-

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ شام میں استقامتی محاذ کی فتح کی وجہ سے امریکی حکام شدید جھنجھلاہٹ کا شکار ہیں اور وہ  نت نئی سازشوں اور منصوبہ بندیوں میں مصروف ہیں ۔ آپ نے اس سلسلے میں کچھ مثالیں پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکی حکام شام میں جس حائل علاقے کے قیام کی بات کررہے ہیں وہ انہی خطرناک سازشوں میں سے ایک ہے اس لئے ان سازشوں کو پوری قوت کے ساتھ مسترد کردینے اور ان کے مقابلے میں ڈٹ جانے کی ضرورت ہے ۔آپ نے فرمایا کہ امریکی حکام عراق اور شام میں باقی رہنے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہیں اور یہ ان کی ان ہی سازشوں کا ایک حصہ ہے -

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایران اور شام کے درمیان گہرے اسٹریٹیجک تعلقات قائم ہیں اور استقامتی محاذ کی شناخت بھی اسی اسٹریٹیجک تعلقات سے وابستہ ہے، بنابریں دشمن کبھی بھی اپنے منصوبوں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکے گا ۔ حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امریکہ کی جانب سے شام اور عراق کی سرحدوں میں مسلسل موجودگی کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور شام کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات قائم ہیں اسی لئے دشمن ہرگز اپنی سازشوں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکے گا۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ شام کی کامیابی امریکہ کے غصہ کا باعث ہے لہذا وہ نئی سازش رچنے کی کوشش کر رہا ہے اور شام میں بفر زون قائم کرنا ان سازشوں میں سے ایک ہے اور اسے مسترد کرنا اور اس کے خلاف ڈٹ جانا چاہئیے۔

موجودہ حالات میں امریکی اور صیہونی حکام کا مقصد، شام کوایک بار پھر دینی و مذہبی اور قومی رجحانات کی بنیاد پر تقسیم کرنا ہے- لیکن امریکی حکومت کو معلوم ہے کہ یہ منصوبہ اس تیزی کے ساتھ ، کہ جو سائیکس- پیکوٹ معاہدے کی بنیاد پر عرب ملکوں کی ابتدائی تقسیم کا باعث بنا تھا، انجام نہیں پاسکتا، کیوں کہ شام کے تاریخی حالات اور عوام کی قوم پرستی نے کچھ ایسے عوامل پیدا کئے ہیں کہ جس کی بنیاد پر وہ اپنے دفاع پر قادر ہیں اور اس منصوبے کو نابود کرسکتے ہیں- ان اہم ترین عوامل میں، شامی عوام کے درمیان پائے جانے والے دینی و قومی، گھریلو اور اقتصادی و سماجی بندھن ہیں- جیسا کہ شام کے صدر بشار اسد نے رہبر انقلاب اسلامی کے ساتھ ملاقات میں ، شام کی اقوام اور مذاہب کے درمیان امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی تفرقہ آمیز پالیسیوں اور کوششوں کی شکست کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کوششوں کا نتیجہ برعکس ظاہر ہوا ہے اور آج حکومت کے ساتھ شام کے کردوں اور قبائل کے اچھے تعلقات قائم ہیں اور حتی بعض گروہ کہ جو ماضی میں حکومت کے ساتھ برسر پیکار تھے آج امریکہ اور سعودی عرب کے نظریے کے برخلاف حکومت کے ساتھ ہوگئے ہیں-    

 شام کے صدر بشار اسد نے شام کیلئے ایران کی حمایت کی قدردانی کرتے ہوئے کہا کہ شام کی جنگ ایران پر مسلط کردہ 8 سالہ جنگ کی مانند تھی اور ایران اس میں شام کے شانہ بشانہ کھڑا رہا۔

واضح رہے کہ شام میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں منجملہ داعش کے خلاف جنگ میں شام کی فتح کے بعد بشار اسد کا یہ پہلا دورہ تہران تھا-

ٹیگس

کمنٹس