Jun ۰۱, ۲۰۱۹ ۱۵:۵۰ Asia/Tehran
  • عالمی یوم قدس اور سید حسن نصراللہ کا خطاب

ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو عالمی یوم قدس کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں وسیع پیمانے پر عظیم الشان مظاہروں اور ریلیوں کا انعقاد ہوا

اس سال یوم قدس کے موقع پر ہونے والے مظاہروں اور ریلیوں میں فلسطین کی حمایت اور غاصب صیہونی حکومت کے جرائم طشت از بام ہونے کے ساتھ ہی دیگر اہم خصوصیات بھی نمایاں طور پر نظر آئیں- اس سال یوم قدس کی ریلیوں کا ایک اہم تشخص یہ تھا کہ اس بار صرف مسلمانوں نے ہی فلسطین کی حمایت میں آواز بلند نہیں کی بلکہ دیگر ادیان و مذاہب کے افراد نے بھی فلسطینیوں کی حمایت اور مسلمانوں کے خلاف صیہونیوں کے جرائم کے خلاف آواز اٹھائی اوریوم قدس نے انھیں یہ موقع فراہم کیا کہ وہ کھل کر مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کر سکیں چنانچہ اس سلسلے میں ایران بھر میں جمعۃ الوداع کے موقع پر فلسطینیوں کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلیوں میں اقلیتیں بھی موجود تھیں جن میں خود بھرپورانداز میں یہودیوں کی شرکت کی جانب اشارہ کیا جا سکتا ہے- دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی مسلمانوں کے ساتھ  دیگرادیان و مذاہب کے ماننے والوں نے فلسطین کی حمایت میں یوم قدس کی ریلیوں میں حصہ لیا- اس سے ان افراد کا یہ نظریہ پوری طرح مسترد ہوجاتا ہے کہ جو یوم قدس کو کسی فرقے اور ایران سے مربوط و مختص کرنے کی کوشش کر رہے ہیں- حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے گذشتہ شب اپنے خطاب میں کہا کہ یوم قدس کو فرقہ وارانہ رنگ دینے اور اسے ایران سے مربوط کرنے کی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں- اس سال یوم قدس کہ جو ہرسال وسیع تر ہوتا جا رہا ہے، کی خاص بات یہ تھی کہ ماضی کی نسبت یوم قدس کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے جو گذشتہ شب حزب اللہ لبنان کے سربراہ کے خطاب میں بھی بیان کی گئی- سیدحسن نصراللہ نے اس سلسلے میں اپنے خطاب میں کہا کہ امام خمینی رح نے چالیس سال پہلے اس جدت عمل کا آغاز کیا تھا اوراس دوران دشمن یہ سمجھتے رہے کہ وقت کے ساتھ یہ دن فراموش کردیا جائے گا لیکن ہم ہرسال دیکھ رہے ہیں کہ یوم قدس اور مسئلہ قدس کی جانب اسلامی ممالک اوردنیا بھر کی قوموں کی توجہ بڑھتی جا رہی ہے- دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یوم قدس کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ اس کی پائداری و بقا مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے یہاں تک کہ آج ایک موثر عالمی تحریک  میں تبدیل ہوگیا ہے-

عالمی یوم قدس کی خاص طور سے گذشتہ روز کی ریلیوں کی  تیسری اہم خصوصیت فلسطین کے بارے میں مغربی طاقتوں خاص طور سے امریکہ کی پالیسیوں پر را‏ئے عامہ کا ردعمل رہا ہے- گذرشتہ روز یوم قدس کے کامیاب مظاہرے اور ریلیاں ایسی حالت میں منعقد ہوئی ہیں کہ امریکہ سینچری ڈیل کے نسل پرستانہ منصوبے کی رونمائی کی کوشش میں ہے اور اس سلسلے میں منامہ کانفرنس پچیس اور چھبیس جون کو منعقد ہونے والی ہے- گذشتہ روز ایران اور دنیا کے دیگر علاقوں میں جو خاص چیز دیکھنے کو ملی وہ عوام کی جانب سے سینچری ڈیل کو سختی سے مسترد کردیا جانا تھا اور یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر گذشتہ رات کے خطاب میں حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے بھی تاکید کی ہے-

اس سلسلے میں سید حسن نصراللہ نے کہا کہ : سینچری ڈیل کا مقصد یہ ہے کہ بیت المقدس ، غزہ پٹی اور فلسطینی جلاوطنوں کے سلسلے میں کسی طرح کی گفتگو نہ کی جائے- انھوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ استقامتی محاذ امریکہ کی سینچری ڈیل کے خلاف ڈٹ جائے گا کیونکہ ہمیں پورا یقین ہے کہ علاقے کی قومیں ہی سینچری ڈیل کو عملی جامہ پہننے سے روک سکتی ہیں- 

اور آخری بات یہ کہ عالمی یوم قدس کی ریلیوں سے ثابت ہوگیا ہے کہ اگرچہ بعض عرب حکام،  فلسطینی اہداف  کے ساتھ خیانت کر رہے ہیں لیکن عرب ممالک  کے مسلمان عوام، فلسطینی اہداف کی حمایت کو اپنے تشخص کا جزء لاینفک سمجھتے ہیں-  

ٹیگس

کمنٹس