Aug ۱۷, ۲۰۱۹ ۱۶:۴۹ Asia/Tehran
  • ایران کے تیل بردار بحری جہاز گریس ون کی آزادی کے سلسلے میں امریکہ اور برطانیہ کا لچکدار موقف

ایران کے تیل بردار بحری جہاز گریس ایک کو غیر قانونی طور پر روکے جانے کا برطانیہ کا اقدام، لندن اور تہران کے درمیان سیاسی کشیدگی کا باعث بن گیا، جبکہ اس درمیان امریکہ، ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کے دائرے میں، اس تیل بردار بحری جہاز کو چھوڑے نہ جانے پر زور دے رہا تھا-

اس کے باوجود برطانوی حکومت اپنے موقف سے آشکارا پسپائی اختیار کرتے ہوئے اس تیل بردار بحری جہاز کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئی - جبل الطارق کی ویب سائٹ نے  جمعرات 15 اگست کو امریکی دباؤ کے برخلاف ، گریس ون تیل بردار بحری جہاز کو آزاد کئے جانے کی خبر دی- اس طرح سے برطانیہ نے آخرکار ایران کے تیل بردار جہاز گریس ون کو پانچ ہفتے کے بعد آزاد کردیا- یہ بحری جہاز جبل الطارق حکومت کے توسط سے روکا گیا تھا- البتہ لندن نے اپنی سیاسی پوزیشن اور وقار کو برقرار رکھنے کے مقصد سے یہ دعوی کیا ہے کہ جبل الطارق کی مقامی حکومت نے گریس ون تیل بردار بحری جہاز کو آزاد کردیا ہے- 

گریس ون تیل بردار بحری جہاز میں بیس لاکھ ٹن سے زیادہ بیرل تھا اور اس بحری جہاز کو چار جولائی 2019 کو جبل الطارق اور برطانیہ کی میرین فورسیز نے روک لیا تھا اور یہ اقدام تہران اور لندن کے درمیان سفارتی بحران وجود میں آنے کا باعث بنا- برطانوی بحریہ نے ایران کے تیل بردار بحری جہاز گریس ون کو، آبنائے جبل الطارق میں مکمل غیر قانونی طور پر اور شام کے خلاف یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی کے بے بنیاد الزام کے تحت روک لیا تھا اور اس کو مزید روکے جانے پر مصر تھی- اب جبکہ یہ پابندیاں یکطرفہ ہیں اور ایران بنیادی طور پر ان پابندیوں پر عمل کرنے کا پابند بھی نہیں ہے اور پھر یہ کہ یورپ نے بھی بارہا دیگر ملکوں کے خلاف امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت اور مذمت کی ہے ایسے میں اب وہ خود ایسا کوئی اقدام نہیں کرسکتا تھا اور اسی وجہ سے لندن کی نظر میں گریس ون بحری جہاز کو مزید روکے جانے کی کوئی وجہ نہیں تھی- 

 اس تیل بردار بحری جہاز کو روکے جانے کے لئے، لندن کو ترغیب دلانے کے امریکی کردار سے بھی پردہ اٹھ گیا- سوئیڈن کے سابق وزیر اعظم کارل بیلٹ نے کہا ہے کہ جبل الطارق میں ایران کے تیل کے بردار جہاز کو ایسے میں جبکہ ایران یورپی یونین کا رکن نہیں ہے، یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی کا بہانہ بنا کر روکا جانا، زیادہ تر سازش معلوم ہوتی ہے- بیلٹ نے ایران کے تیل بردار بحری جہاز کو روکے جانے کی امریکی کوشش اور اسپین کے حکام کے اس بیان کے جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ لندن نے یہ کام واشنگٹن کی درخواست پر کیا ہے، یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ اقدامات ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالے جانے کے لئے، امریکہ کے ساتھ تعاون کے مقصد سے انجام پایا ہے-

اسی بنا پر ایران نے بھی 19 جولائی 2019 کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ایک بحری جہاز کو آبنائے ہرمز میں روک لیا تھا - تہران نے اعلان کیا کہ یہ تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے عبور کرتے وقت چار بڑی خطاؤں کا مرتکب ہوا ہے اور ایران کو آبنائے ہرمز کے شمالی علاقے میں بین الاقوامی قوانین منجملہ (United Nation Convention of Law of Seas 1982)  کے مطابق اس تیل بردار بحری جہاز کو روکے جانے کا حق حاصل تھا-

اسی اثنا میں برطانوی وزیر ا‏عظم بوریس جانسن ، کہ جو سخت بریگزٹ مسئلے سے دوچار ہیں، امریکہ کی پے درپے درخواستوں اور امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے دورۂ لندن میں، ایران کے تیل بردار بحری جہاز کو روکے جانے کے مسئلے پر اصرار کے باوجود ، اس مسئلے کو حل کئے جانے کے خواہاں تھے اور آخرکار جانسن آشکارا پسپائی اختیار کرتے ہوئے گریس ون تیل بردار بحری جہاز کو آزاد کرنے پر مجبور ہوگئے- 

اس وقت ٹرمپ انتظامیہ ، ایران کے تیل کے جہاز کو مزید روکے جانے میں اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے میں کوشاں ہے اور امریکی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں جو جمعہ 16 اگست کو شائع ہوا ایران کے تیل بردار جہاز کے عملے پر پابندی لگانے کی دھمکی دی ہے- یہ مال بردار بحری جہاز آزاد ہونے کے بعد بحیرہ روم کی جانب جائے گا ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ اس تیل بردار جہاز کو بحیرہ روم میں یا اس کے بعد کے مراحل میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی- اس طرح سے گریس ون تیل بردار بحری جہاز کے مسئلے پر ایران کے مقابلے میں ٹرمپ انتظامیہ کو اپنے اسٹریٹیجک اتحادی برطانیہ کے ہمراہ، بہت بڑی رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اب ان کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہیں ہے-  

ٹیگس

کمنٹس