مالداروں کی لگژری کاریں تو آپ نے دیکھی ہوں گی،اب انکی کشتیاں بھی دیکھیں!

دنیا کے مختلف علاقوں میں بسنے والے بعض ارب پتی اور مالداروں کی اپنی تفریحی کشتیاں ہیں جو انکے لئے سامان سیر و تفریح ہونے کے ساتھ ساتھ انکے مالدار ہونے کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ اپنے مال کے دکھاوے کا یہ طریقۂ کار بیسویں صدی کی ابتدا سے رائج ہوا جس میں مالدار اور صاحب حیثیت لوگ سیاحت و تفریح اور اپنے عیش و آرام کے لئے بڑی بڑی نجی کشتیاں بنوایا کرتے تھے اور یہ سلسلہ آج بھی رائج ہے۔ افسوس کی بات یہ کہ ایسے افراد میں ایک قابل توجہ تعداد مسلمانوں کی ہے جبکہ عالم اسلام میں کروڑوں کی تعداد میں مسلمان بھوک مری کا شکار ہیں۔

۱:ہسٹری سپریم:یہ ایک ملیشیئن تاجر کی کشتی ہے جسے دنیا کی سب سے مہینگی تفریحی کشتی کہا جاتا ہے جس میں کئی کلو سونا، پلاٹینم اور ہیرے استعمال کئے گئے ہیں۔

 

۲:اکلپس:یہ کشتی روسی ارب پتی رومن آبرام ویج کی ہے۔اس میں دو سویمنگ پول، ساؤنا، ہیلی کاپٹر، تین چھوٹی کشتیوں اور ایک آبدوز جیسی متعدد سہولتیں موجود ہیں۔اس کی کھڑکیاں بلٹ پروف ہیں!

 

۳:اسٹریٹز آف موناکو:یہ کشتی ابھی در حقیقت موناکو کی ایک تصوراتی شکل ہے جس میں سویمنگ پول، ٹینیس اسٹیڈیم اور مہمانوں کے لئے ماڈرن کمرے بنے ہوئے ہیں۔ ایک چھوٹا آبشار، ہیلی کاپٹر اور ایک آبدوز بھی اس کشتی میں موجود ہیں۔

 

۴:عظام: یہ کشتی متحدہ عرب امارات کے سربراہ اور ابوظبی کے شیخ خلیفہ بن زائد آل نہیان کی ہے۔یہ کشتی دنیا کی سب سے تیز رفتار تفریحی کشتی سمجھی جاتی ہے۔

 

۵:دبئی:یہ کشتی دبی کے حاکم محمد رشید المکتوم کی ملکیت ہے۔اس میں بھی سویمنگ پول اور ساؤنا کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

 

۶:سوپر یاج اے: یہ کشتی روسی ارب پتی اینڈری اور انکی اہلیہ الکسانڈرا کی ملکیت ہے۔ مہمانوں کے لئے متعدد ماڈرن کمرے اس میں بنائے گئے ہیں۔

 

۷:السید:یہ کشتی عمان کے حاکم سلطان قابوس بن سعید آل سعید کی ملکیت ہے جس میں عیش و تفریح کی جدید ترین سہولتیں فراہم ہیں۔

 

۸:دلبر:یہ کشتی روس کے عالیمر عثمان اف کی ہے جس میں ایک سویمنگ پول اور ہیلی کاپٹر جیسی بہت سی سہولتیں موجود ہیں۔

 

۹:ال میرکاب:یہ کشتی قطر کے وزیر خارجہ حمد بن جاسم بن جابر آل ثانی کے لئے بنائی گئی ہے جسے دنیا کی سب سے بڑی تفریحی کشتیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔یہ کشتی بھی جدید ترین سہیولیات سے لیس ہے۔

 

۱۰:یہ تفریحی کشتی سعودی عرب کے ایک تاجر ناصر الرشید کی ملکیت ہے جو سنہ ۱۹۹۰ میں بنائی گئی۔اس میں بھی جدید ترین سہولیات کے علاوہ متعدد چھوٹی بڑی کشتیوں اور ایک ہیلی کاپٹر کو بھی جگہ دی گئی ہے۔
Aug ۰۶, ۲۰۱۷ ۰۹:۵۰ UTC
کمنٹس