Feb ۲۵, ۲۰۲۰ ۱۴:۱۶ Asia/Tehran
  • دہلی میں تیسرے روز بھی فسادات سات ہلاک اور ایک سو سے زائد زخمی

ہندوستان کے قومی دارالحکومت دہلی کے جعفرآباد اور موج پور سمیت شمال مشرقی دہلی کے کئی علاقوں میں اتوار سے شروع ہونے والے فسادات اور پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ منگل کو بھی جاری رہا ہے اس درمیان مرکزی وزیرداخلہ، دہلی کے وزیراعلی اور لفٹننٹ گورنر سمیت کئی اعلی عہدیداروں اور ممبران اسمبلی پرمشتمل ایک ہنگامی اجلاس بھی تشکیل پایا ہے

دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں سی اے اے اور این آر سی کے مخالفین اور حامیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں اور فسادات میں مرنے والوں کی تعداد سات ہوگئی جس میں ایک ہیڈکانسٹیبل بھی شامل ہے جبکہ ایک سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں چالیس سے زائد اعلی پولیس افسران اور پولیس اہلکار بھی ہیں ۔اطلاعات ہیں کہ شمال مشرقی دہلی کے بعض علاقوں میں منگل کو بھی پتھراؤ اور آگ زنی کے واقعات  ہوئے ہیں   ۔ اس درمیان وزارت داخلہ میں مرکزی وزیر داخلہ ، دہلی کے وزیراعلی کیجری وال ، دہلی کے لفٹننٹ گورنر ، دہلی کے ممبران اسمبلی اعلی پولیس افسران اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا ایک ہنگامی اجلاس ہوا جس میں دہلی میں امن قائم کرنے پر زور دیا گیا- اجلاس کے دوران وزیرداخلہ امت شاہ نے پولیس کی نفری مزید بڑھانے کا حکم دیا اور یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فسادات سے متاثرہ علاقوں میں امن کمیٹیاں قائم کی جائیں گی - وزیراعلی کیجری وال نے اجلاس کے بعد کہا کہ یہ اجلاس بہت ہی مثبت اور مفید رہا ۔ دہلی کے حالیہ فسادات پر سپریم کورٹ بدھ کو سماعت کرنے والا ہے اور اس کے فیصلے پر سبھی کی نظریں لگی ہوئی ہیں - دہلی کے فسادات میں اب تک سات افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک نوجوان سولنکی کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بی جے پی کے لیڈر کپل مشرا پر فسادات بھڑکانے کا الزام لگایا ۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ فسادات میں لوگ مارے گئے اور اب کپل مشرا گھر میں گھس گیا ہلاک ہونے والے نوجوان سولنکی کے والد نے کہا کہ اس علاقے میں سی اے اے کے خلاف احتجاج گذشتہ دو مہینے سے پرامن طریقے سے جاری تھا لیکن کپل مشرا کے اشتعال انگیز بیان کے بعد ہی حالات خراب ہوئے - بی جے پی کے دہلی سے ممبر پارلیمنٹ اور سابق کرکٹر گوتم گمبھیر نے کپل مشرا کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے - واضح رہے کہ سی اے اے کی مخالفت میں جعفرآباد میٹرو اسٹیشن کے باہر خواتین نے دھرنا دے دیا تھا جس کے بعد بی جے پی کے لیڈر کپل مشرا اپنے حامیوں کے ہمراہ دھرنے کے مقام کے قریب پہنچ گئے اور انہوں نے مبینہ طور پراشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے پولیس کو بھی دھمکی دے ڈالی تھی اور پھر اسی کے بعد حالات خراب ہوگئے - عینی شاہدین نے دہلی پولیس پر بھی تساہلی برتنے اور حتی شرپسندوں کا ساتھ دینے کا الزام لگایا ہے - دوسری جانب دہلی کے برج پوری علاقے میں ہندو مسلم ایکتا مارچ نکال گیا ہے - برج پوری میں نکالے گئے ایکتامارچ میں سبھی فرقوں کے لوگوں نے شرکت کی اور اپنا اتحاد مضبوط بنائے رکھنے پر زور دیا مارچ میں شریک لوگ نعرے لگارہے تھے کہ ہم سب ایک ہیں اور اپنے علاقے کا امن خراب نہیں ہونے دیں گے -

 

ٹیگس

کمنٹس