رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکہ قابل اعتماد نہیں ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پیر کی شام تہران میں صدر مملکت، حکومتی اراکین، عدلیہ اور پارلیمنٹ کے سربراہوں اور سنئیر حکام کے ساتھ ایک ملاقات میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ایران کی ترقی و پیشرفت اور ملک کو منظم طریقے سے چلانے کے لئے تجربوں سے استفادہ اورقومی اتحاد و وحدت  اور قومی  مفادات کے سلسلے میں ٹھوس اور مضبوط قدم اٹھانے پر اپنی توجہ مبذول کرنی چاہیے۔ اورامریکہ پر اعتماد اور بھروسہ نہیں کرنا چاہئیے۔

اس موقع پر آپ نے 19 مئی کو ملک میں ہونے والے تاریخی انتخابات اور ایرانی عوام کی عظیم شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ہونے والے انتخابات سے عوام کے دلوں میں انقلاب اور اسلامی نظام سے گہری محبت کی واضح نشاندہی ہوتی ہے لیکن عالمی ذرائع ابلاغ نے اس اہم مسئلے کی جانب کسی قسم کا اشارہ نہیں کیا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے ایران کے انتخابات کے بعد امریکیوں کے اشتعال انگیز اقدامات بالخصوص نئی پابندیوں کے اطلاق اور دشمنی کو ہوا دینے پر شدید تنقید کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسی دشمنی کی فضا کا مقابلہ کرنے کے لئے تعاون، کام اور محنت کی نئی فضا قائم کرنی چاہئے اور سب کو ملک کی ترقی اور اسلامی نظام کی بالادستی کے لئے قائم ہونے والی فضا میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا.

قائد اسلامی انقلاب نے مقاصد کے حصول اور دشمنوں کو ناکام بنانے کے لئے مزاحمت اور محنت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ سب کو حکام کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے اور حکام بھی عوام کی صورتحال کی بہتری کے لئے تمام شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دیں.

آپ نے فرمایا کہ استکباری طاقتیں اپنی خواہشات اور مطالبات کو مسلط  کرنے کے لئے مختلف قسم کے حربے استعمال کرتی ہیں اورنام نہاد عالمی قوانین کی آڑ میں سامراجی قوتوں کے مقاصد کو پورا کیا جاتا ہے جس کا مقصد آزاد اور مستقل ممالک کو جو ظلم و بربریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، قانون توڑنے کا ملزم ٹھرایا جائے.

حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایران مخالف امریکی من گھڑت الزامات اور ہرزہ سرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکہ کا اس خطے سے کوئی تعلق نہیں جبکہ خطے میں بدامنی اور عدم استحکام کی وجہ امریکہ اور اس کے کٹھ پتلی اتحادی ممالک ہیں.

داعش دہشتگرد تنظیم کے قیام اور اسے مالی امداد اور ہتھیاروں کی فراہمی پر امریکہ کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم لیڈر نے مزید فرمایا کہ داعش مخالف اتحاد کا قیام جھوٹ کا پلندہ ہے، تاہم امریکہ کنٹرول نہ ہونے والے داعش عناصر کے خلاف ہے جبکہ اگر کوئی داعش کا قلع قمع کرنے کا خواہاں ہو تو اس کا مقابلہ کرتا ہے.

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکہ کے ساتھ  اکثر مسائل کا حل ممکن نہیں اورامریکہ کو ایران کے جوہری پروگرام یا انسانی حقوق سے تکلیف نہیں بلکہ اس کا اصل مسئلہ ایران میں قائم اسلامی جمہوری نظام ہے.

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایرانی قوم کو زندہ ، بانشاط اورانقلابی قوم قراردیتے ہوئےفرمایا کہ اس قسم کی صورتحال ایک اچھے مستقبل کی نوید دیتی ہے اورھمیں توقع ہے کہ ایرانی عوام کی صورتحال دن بدن بہتر سے بہتر ہو گی اور چیلنجوں کا بہترین طریقے سے مقابلہ کیا جائے گا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل صدر حسن روحانی نے ملکی اور غیر ملکی مسائل کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

 

Jun ۱۳, ۲۰۱۷ ۰۶:۲۳ UTC
کمنٹس