Dec ۲۱, ۲۰۱۵ ۰۷:۱۳ Asia/Tehran
  • یمن کی عوامی تحریک، انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی
    یمن کی عوامی تحریک، انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی

یمن کی عوامی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے ایک رکن نے کہا ہے کہ سعودی جارحیت کے مقابلے میں یمنی عوام کی استقامت بدستور جاری رہے گی۔

یمن کی عوامی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی نے العالم سے گفتگو میں سوئیزرلینڈ میں ہونے والے یمنی گروہوں کے مذاکرات کے نتیجے کے بارے میں کہا ہے کہ سعودی عرب سے ملنے والی سرحدوں میں یمنی فوج اور عوامی رضاکارفورسز کی پیش قدمی کے بعد، آل سعود حکومت نے خطرہ محسوس کرتے ہوئے مذاکرات اور فائربندی کا اعلان کیا مگر اس عمل میں وہ سنجیدہ نہیں تھی۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب، یمن میں اپنے مقاصد کے حصول میں ناکامی اور بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں اس بات کو ماننے پر مجبور ہو گیا ہے کہ جنگ و جارحیت سے بحران کا حل نہیں نکالا جاسکتا۔

محمد البخیتی نے بحران یمن کے بارے میں اقوام متحدہ کی کارکردگی سے متعلق بھی کہا کہ بحران یمن کے بارے میں اقوام متحدہ کی کمزور کارکردگی کا ہی مسئلہ درپیش نہیں ہے بلکہ غور طلب بات یہ ہے کہ بحران یمن میں یہ عالمی ادارہ بھی، جارحین کے ساتھ ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یمن کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسماعیل ولد الشیخ، منفی کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ بحران یمن کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کر رہی ہے۔

یمن کی عوامی تحریک انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی نے بحران یمن کے سیاسی حل پر تاکید کرتے ہوئے یمن میں فائر بندی سے متعلق مستعفی یمنی حکومت کے فیصلے کو ایک نمائشی اقدام قرار دیا اور کہا کہ فائر بندی کی مدّت میں توسیع کے ممکنہ اعلان کے باوجود جارحین کے حملوں میں پھر تیزی آنے کا امکان پایا جاتا ہے۔

ٹیگس

کمنٹس