• غرب اردن کے مختلف علاقوں پر صیہونی فوجیوں کی جارحیت

غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں نے مظلوم فلسطینیوں کے خلاف اپنے وحشیانہ جرائم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے غرب اردن کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔

فلسطینی ذرائع کے حوالے سے موصولہ رپورٹ کے مطابق غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں نے اتوار کی صبح غرب اردن کے مختلف علاقوں کو اپنے وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنایا اور پانچ فلسطینیوں کو بلاسبب حراست میں لے لیا۔

صیہونی فوجیوں نے اسی طرح تحریک فتح کے رکن یوسف الشائب کو بھی گرفتار کرلیا۔

غاصب صیہونی حکومت کے فوجی اپنے توسیع پسندانہ مقاصد کے حصول کے لئے فلسطین کے مختلف علاقوں کو آئے دن اپنے وحشیانہ حملوں کا نشانہ بناتے اور فلسطینیوں کو گرفتار کرتے رہتے ہیں۔

انسانی حقوق کے فلسطینی گروہ الضمیر نے اعلان کیا ہے کہ صیہونی حکومت کی جیلوں میں سات ہزار سے زائد فلسطینی قید ہیں جن میں بچے اور فلسطین کی سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب صیہونی فوجیوں نے غرب اردن کے علاقے الجلزون کیمپ سے ایک چھے سالہ بچے کو حراست میں لے لیا۔

صیہونی فوجیوں نے اس چھے سالہ فلسطینی بچے پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوجیوں پر پتھراؤ کیا ہے۔

فلسطینی ذرائع‏ کے مطابق صیہونی فوجیوں نے اس چھے سالہ فلسطینی بچے کو ایک فوجی گاڑی کے ذریعے صیہونی آبادی کےعلاقے بیت ایل منتقل کر دیا۔

دریں اثنا حزب اللہ لبنان کی مرکزی کونسل کے رکن نبیل قاؤق نے اعلان کیا ہے کہ صیہونی فوجیوں نے غرب اردن کے مختلف علاقوں سے چھوٹے چھوٹے فلسطینی بچوں کو گرفتار کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے اور وہ ہر مہینے کم از کم بارہ فلسطینی بچوں کو گرفتار کر رہی ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ قدس کی غاصب اور جابر صیہونی حکومت کی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں نو روز کے دوران گیارہ فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

غاصب صیہونی حکومت کی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کو آہوں اور سسکیوں کے درمیان سپرد خاک کر دیا گیا۔

جلوس جنازہ اور نماز جنازہ میں ہزاروں فلسطینیوں نے شرکت کی اور امریکہ مردہ باد، اسرائیل مردہ باد کے فلک شگاف نعرے لگا کر اس عزم کا اظہار کیا کہ خون کے آخری قطرے تک بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت نہیں بننے دیا جائے گا۔

Dec ۱۷, ۲۰۱۷ ۱۴:۳۳ Asia/Tehran
کمنٹس