Feb ۱۱, ۲۰۱۹ ۰۸:۱۹ Asia/Tehran
  • یمن میں سعودی عرب کا ایک اور سیاہ کارنامہ

یمن پر سعودی جارحیت کے باعث دھڑ سے جڑے بچوں کو علاج کی غرض سے بیرون ملک یا کسی بہتراسپتال نہ بھیجا جاسکا جس کے نتیجے میں بچوں کی موت واقع ہوگئی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی جارحیت کا شکارملک یمن کے شہر صنعا میں دھڑ سے جڑے بچوں کی پیدائش ہوئی تھی، دونوں بچوں کا ایک گردہ اور ایک ٹانگ مشترکہ تھی، پیدائش کے بعد سے بچوں کی حالت خراب ہونے لگی تھی۔ ماہر اطفال ڈاکٹر فیصل البابیلی نے اسپتال میں ناکافی سہولیات پر بچوں کو بیرون ملک منتقل کرنے کی درخواست کی تھی جہاں بچوں کو میجر سرجری کے بعد ایک دوسرے سے علیحدہ کیا جانا ممکن تھا۔ لیکن یمن میں سعودی جارحیت اورسعودی عرب کی جانب سے یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے جڑواں بچوں کو بیرون ملک تو درکنار کسی دوسرے بڑے اسپتال بھی منتقل نہیں کیا جاسکا اور اس طرح 15 روز کے عبدالخالق اورعبدالرحیم طبی امداد ملنے کے انتظار میں ہی دار فانی سے کوچ کرگئے۔

سعودی جارحیت پرعالمی اداروں کی ڈرامائی خاموشی کے باعث یہ دو ننھی کلیاں بن کھلے ہی مرجھا گئیں اور تاحال یمن میں گولہ بارود کا راج قائم ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت  سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری جن میں چھوٹے بچے بھی شامل ہیں شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔

یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے ۔

 سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات اسپتال اور حتی مسجدوں کو بھی منہدم کردیا ہے  لیکن اس کے باوجود سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ میں اپنے اہداف تک پہنچنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔

 

ٹیگس

کمنٹس