Apr ۲۴, ۲۰۲۴ ۱۶:۵۰ Asia/Tehran
  • غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے 200 دنوں میں کتنے فلسطینی شہید اور کتنے صیہونی ہلاک ہوئے؟

اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب نے کہا ہے کہ صیہونیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کی دو سو دنوں سے جاری نسل کشی، جارح اسرائیل کو سزا دیئے بغیر جاری و ساری ہے۔

سحر نیوز/ ایران: اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر لکھا ہے کہ دو سو دنوں سے نسل کش جارح صیہونی حکومت کے ہاتھوں، مظلوم اور نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی جاری ہے- اس دوران جارح اسرائیل نے چودہ ہزار سے زيادہ بچوں کو شہید کیا ہے اور اس سے پوری طرح لطف اندوز ہو رہی ہے -

فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے اسرائیلی حکومت کے ٹھکانوں کے خلاف سات اکتوبر 2023 کو غزہ سے طوفان الاقصی آپریشن کا آغاز کیا تھا-

اسرائیلی حکومت کے ہاتھوں برسوں سے مظلوم فلسطینی عوام کے خلاف جاری مظالم سے تنگ آکر غاصب اور جارح صیہونی حکومت کے خلاف فلسطینی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے شروع ہونے والے الاقصی طوفان آپریشن میں گیارہ سو انتالیس اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔ اس جنگ میں اب تک چونتیس ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کی شہادت ہو چکی ہے اور غزہ کی تقریباً تیئیس لاکھ آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔

یہ وہ المناک واقعات ہیں جن کی وجہ سے فلسطینیوں کی نسل کشی کا معاملہ سامنے آیا لیکن اسرائیل اسے مسترد کرتا ہے۔

غزہ میں اسرائیل کی تقریباً چھ ماہ کی جنگ کے بعد پچیس مارچ دوہزار چوبیس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین کے چودہ مثبت ووٹوں اور امریکہ کے ووٹنگ میں حصہ نہ لینے اور اس قرارداد کو ویٹو نہ کرنے کے سبب، غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی قائم کرنے کی قرارداد 2728 کی منظوری دی گئی تاکہ قرارداد کی منظوری کے بعد سے، ماہ رمضان کے مقدس مہینے کے باقی بچے 15 دنوں میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی قائم ہوسکے -

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2728 کو، امریکہ کی جانب سے حق ویٹو استعمال نہ کرنے کے سبب منظوری دی گئی- اس سے قبل امریکہ نے تین قراردادوں کو ویٹو کر دیا تھا تاہم اس بار اس قرارداد پر ووٹنگ میں حصہ نہيں لیا اور اس طرح سے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی مخالفت کے بغیر اسے منظوری دے دی گئی- اس قرارداد کو سلامتی کونسل کے 10 غیر مستقل ارکان نے ترتیب دیا تھا۔

اس قرارداد میں جو اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی دیگر قراردادوں کی طرح نافذ نہیں کی گئی، رمضان کے مہینے میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ رمضان کے مہینے میں فوری جنگ بندی تمام فریق کو ملحوظ رکھنی چاہیے تاکہ یہ جنگ بندی دیرپا جنگ بندی کا باعث بن جائے-

قرارداد میں تمام قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا گیا اور ان کی طبی اور دیگر انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انسانی بنیادوں پر رسائی کی ضمانت دی گئی، اور فریقین سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تمام قیدیوں کے سلسلے میں بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

امریکہ نے بھی فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت میں اپنے تمام نعروں کے باوجود اسرائیل کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کی قرارداد کے حق میں بھی ووٹ نہیں دیا اور اس قرارداد کو ویٹو کر دیا۔

اقوام متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کے لیے الجزائر کی مجوزہ قرارداد پر 18 اپریل 2024 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ووٹنگ ہوئی، جسے امریکا کی مخالفت اور اس کے ویٹو کی وجہ سے منظور نہیں کیا گیا۔

اس قرار داد کے حق میں سلامتی کونسل کے 15 اراکین میں سے 12 نے مثبت ووٹ دیئے جبکہ دو غیر حاضر رہے اور امریکہ نے مخالفت کرتے ہوئے اسے ویٹو کردیا۔

ٹیگس