May ۱۹, ۲۰۱۹ ۱۱:۴۰ Asia/Tehran
  • سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی کال پر یمن کا رد عمل

یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے صدر نے سعودی عرب کی جانب سے سعودی اور امارات کے تیل کی تنصیبات پر حالیہ حملوں کے خلاف دو اجلاس بلانے پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

اسپوتنیک کی رپورٹ کے مطابق یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے صدر محمد علی الحوثی نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ اجلاس میں مدعو ہونے والے ممالک کے سربراہان اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے ذریعے یمنی عوام کے قتل عام کی روک تھام کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اجلاس نہ فقط یمن پر جارحیت کی روک تھام میں مدد نہیں کر سکتے بلکہ جنگ و خونریزی کے جاری رہنے کا باعث بنتے ہیں۔

محمد علی الحوثی نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ در اصل اس قسم کا اجلاس جہان اسلام اور اسی طرح فلسطین کے مسئلے اور سینچری ڈیل کے حوالے سے ایک سازش ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے خلیج فاارس تعاون کونسل کے رکن ممالک اور عرب ممالک کے سربراہوں کو 30 مئی کو فوری طور پر دو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے جس کا مقصد سعودی عرب کی تیل تنصیبات اور امارات کے الفجیرہ بندرگاہ میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات کا جائزہ لینا ہے۔

ٹیگس

کمنٹس