Oct ۱۳, ۲۰۱۹ ۱۵:۳۹ Asia/Tehran
  • شام میں ترک فوج کی جارحیت اور عالمی ردعمل

شام میں ترک فوج کی کارروائیوں پر عالمی سطح پر مذمتوں اور ردعمل کا سلسلہ جاری رہے۔ اس درمیان عرب لیگ نے بھی شام کے شمال مشرقی علاقے میں ترکی کے فوجی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے ترک فوج کے حملے کو فوری طور پر بند کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس میں شام میں ترک فوج کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ترکی کوشش کررہا ہے کہ شام کے شمال مشرقی علاقے کی آبادی کے تناسب کو بڑے پیمانے پر تبدیل کردے -

عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابوالغیظ نے اپنے بیان میں کہا ہےکہ شام کے شمال مشرقی علاقے پر ترک فوج کا حملہ ایک عرب ملک اور اس کے اقتدار اعلی پر حملہ ہے اور انقرہ کو اس خطرناک اقدام کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی - عرب لیگ کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ شام پر ترکی کے حملے کا مقصد شام کے ایک حصے کو اس سے الگ کردینا ہے - انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ شام میں ترک فوج کے حملے کو فوری طور پر بند کرائے اور اس حملے کی اتفاق رائے کے ذریعے مذمت کرے -

دوسری جانب عراق کے صدر برہم صالح نے بھی شام پر ترک فوج کے حملے کو فوری طور پر بند کئے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بحران پرامن طریقے سے حل کیا جائے - انہوں نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل گوترش سے اپنی ٹیلی فونی گفتگو میں کہا کہ اقوام متحدہ فوری طور پر مداخلت کرکے ترکی اور کردوں کے درمیان پائے جانے والے تنازعے کو حل کرائے - اس درمیان شام کے شمال مشرقی علاقے کی کرد ملیشیا کے ترجمان نے کہا ہے کہ ترک فوج کے حملے میں اب تک کرد ملیشیا کے تین سو سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔

شام کی کرد ملیشیا سیرین ڈیموکریٹک فورس کے ترجمان ردور خلیل نے کہا ہے کہ ترک فوج کے حملے میں شام اور  ترکی کی سرحد پر واقع کرد علاقے کے ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں - ترک وزارت دفاع نے بھی کہا ہے کہ اس حملے میں اب تک تین سو ستتر کرد جنگجو مارے گئےہیں - اس درمیان شام کی انسانی حقوق کی تنظیم نے کہا ہے کہ ترک فوج کے حملے میں کم سے کم دس عام شہری بھی مارے گئے ہیں - ادھر شام کے مشرقی صوبے دیرالزورکے قبائلیوں نے کہا ہے کہ وہ ترک فوج اور اس سے وابستہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں - دیرالزور صوبے کے عرب قبائل نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے جارح ترک فوج کے خلاف لام بندی کا اعلان کردیا ہےاور شامی باشندے اپنے ملک کا دفاع کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ دوسری طرف فرانس اور جرمنی نے بھی شام میں ترک فوج کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ترکی کے خلاف اسلحہ جاتی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے - یورپی یونین نے بھی ترکی کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے - اسلامی جمہوریہ ایران پہلے ہی شام میں کسی بھی ملک کی فوجی مداخلت کو شام کے اقتدار اعلی کی خلاف ورزی قراردیا ہے - ایران کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس جنگ کی آگ کو بھڑکانے میں امریکا کا بڑا رول ہے - ایرانی وزارت خارجہ نے ترکی سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر شام میں اپنے حملے بند کردے - ہندوستان کی وزارت خارجہ نے بھی شام میں ترکی کے یک طرفہ اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ کے اس اقدام سے علاقے کی سلامتی اور استحکام کو خطرہ لاحق اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

 

ٹیگس

کمنٹس